کنڈزال پانپور حملے میں لشکر جنگجوئوں کے ملوث ، شناخت کر لی گئی ، تلاش جاری / آئی جی پی کشمیر

جنگجو ہائی وے پر حملہ کرنا آسان سمجھتے ہیں ، مسافر گاڑیوں کی بھاری موجودگی کے باعث جوابی کارروائی نہیں کی

سرینگر/05اکتوبر: کنڈزال پانپور حملے میں لشکر جنگجوئوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجے کمار نے کہا کہ حملہ آوروں کی پہنچان کر لی گئی ہے اور ان کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے آپریشن جاری ہے ۔ اسی دوران انہوںنے کہا کہ جنگجو ہائی وے پر حملہ کرنا آسان سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہاں گاڑیوں کی کافی نقل و حمل رہتی ہے اور شاہراہ پر بھاری تعداد میں مسافر گاڑیوں کی موجودگی کے باعث ہم نے جوابی کارورائی نہیں کی ۔ سی این آئی کے مطابق کنڈزال پانپور علاقے میں سی آر پی ایف پارٹی پر حملے میں دو سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد جائے واردات پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ پانپور حملے میں جن موٹر سائیکل سوار دو جنگجوئوں نے فورسز پر حملہ کیا اْن کی شناخت ہوگئی ہے اور اْن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔وجے کمار نے کہا کہ دو موٹر سائیکل سوار جنگجوئوں نے کنڈی زال پانپور کے قریب سی آر پی ایف اہلکاروں کی ایک پارٹی پر اندھا دھند گولیاں چلاکر دو اہلکاروں کو ہلاک اور تین کو زخمی کردیا۔انہوں نے کہا یہ حملہ سیف اللہ نامی ایک پاکستانی جنگجو نے کیا جس کے ساتھ ایک مقامی جنگجو بھی شامل تھا۔آئی جی کے مطابق دونوں کو ڈوھونڈ نکالنے کیلئے کارروائی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگجو ہائی وے پر حملہ کرنا آسان سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہاں گاڑیوں کی کافی نقل و حمل رہتی ہے۔ اگر فورسز بھی اندھا دھند گولیاں چلاکر جوابی کارروائی کریں تو کافی ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر بھاری مسافر گاڑیوں کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے ہم نے جوابی کارورائی نہیںکی ۔ ترال میں مختصر جھڑپ کے بارے میں آئی جی پی کشمیر نے بتایا کہ پری ناڈاونتی پورہ علاقے میں جنگجوئوں اور فورسز کا آمنا سامنا ہوا جس کے بعد طرفین میں گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا لیکن ابتدائی فائرنگ کے بعدسے طرفین کا سامنا نہیں ہوا ۔ انہوںنے بتایا کہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی ہے ۔

Comments are closed.