سرینگر /3اکتوبر /کے پی ایس: پروفیسر مشعل سطانپوری کے انتقال کے سلسلے میں دوسرے روز بھی تعزیت پُرسی کا سلسلہ جاری رہا ۔اس دوران مختلف ادبی وسماجی شخصیات وفود نے مرحوم کے گھر جاکر لواحقین ڈھارس بندھائیاور ان کے ساتھ تعزیت کااظہار کیااور مرحوم ادبی ،علمی وسماجی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے کشمیر ی زبان وادب کیلئے ایسے کارنامہ ہائے انجام دئے جو نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہیں ۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ادھرگلشن کلچرل فورم کشمیر کے میڈیا ایڈوایزرادریس بدرنی کے مطابق مورخہ 3اکتوپر سنیچر وارگلشن کلچرل فورم کشمیرکا ایک مشترکہ وفد گلشن بدرنی کی قیادت میں جٹی روڈ بارہمولہ مرحوم پروفیسر مشعل سلطانپوری کے دولت خانے پر تعزیت پْرسی کے لیے گیا۔ جہاں پسماندگان کے ساتھ خصوصاً مرحوم کے فرزند ڈاکٹر بہار کو فورم کے تمام اراکین کی جانب سے تعزیت کی گئی اور فورم سے وابستہ سرکردہ دانشوروں کے تعزیتی پیغامات بھی متعلقین تک پہنچائے گئے۔جن میں فورم کے صدر سید بشیر کوثر، پروفیسر گلشن مجید،مرروف براڈ کاسٹر شمشاد کرالہ واری، شیخ غلام رسول المعروف لسہ صآب سرپرست بزم شیریں کاوسہ، غفار باغوان سرپرست بزم باغوان پاری پورہ شامل ہیں۔ شرکائے وفد میں لطیف نیازی، خورشید خاموش، مقبول شیدا اور عبدالاحد شہباز شامل تھے۔ اس موقعہ پر فورم کے ترجمان عبدالاحد شہباز نے موت و حیات اور مرحوم مشعل سلطانپوری کے ادبی کارناموں کا ذکر کرتے ہوے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ گلشن بدرنی نے مرحوم کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا اظہار کرتے ہوے اْنکا انتقال ادب دوستی اور ادبی تحریک کے ایک مکمل باب کا اختتام قرار دیا۔ سوگوارخاندان سے ہمدردی کا اظہارکیااور دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس اور سوگواراں کو صبر و جمیل عطا کرے ۔ آمین۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.