سرینگر /3اکتوبر /کے پی ایس : شمالی کشمیر ضلع بانڈی پورہ میں نالہ ارن ٹراوٹ مچھلیوں کی پیدوار کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن پاپ چھن اور نسو کے مقام پر نالہ سے غیر قانونی طور ریت ،باجری اور بولڈر نکالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔جبکہ عدالتی احکامات کے مطابق باجری اور ریت کی نکاسی پر مکمل پابندی عائد ہے ۔موصولہ تفصیلات کے مطابق محکمہ جیالوجی اینڈمائنگ اورمحکمہ فشریز کے ملازمین و اہلکاراںدن میں نالہ ارن کے متذکرہ مقامات پر پہرہ لگائے ہوتے ہیں اور کسی کو بھی غیر قانونی طور ریت ،باجری اور بولڈر نکالنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں اور ان کی موجودگی میں کوئی ایک بھی اس طرح کی مزموم حرکت کرنے کی جرات نہیں کرتا ہے تاہم رات کی اندھیری میں روشنی کے آلات کے سایے میں متعلقہ محکمہ جات کے ملازمین کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹپر اور دیگر قسم کی گاڑیوں کے ذریعے باجری ،ریت اور بولڈر نکال کر درآمد کرتے ہیں جس سے نالہ میں مچھلیوں کی پیدوار ضائع ہورہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ باجری اور ریت کی نکاسی سے نالہ کے دونوں سمت کھل جاتے ہیں اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہے ۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ مذکورہ نالہ میں ٹراوٹ مچھلیوں کی پیدوار ہوتی ہے جس سے محکمہ فشریز کے ذریعے خزانہ عامرہ کو کافی فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔تاہم غیر قانونی طور ریت اور باجری نکالنے سے مچھلیوں کی پیدوار ختم ہورہی ہے ۔اس کے علاوہ راتوں کو چلنے والی گاڑیوں کے شور سے نالہ کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خود غرض افراد متعلقہ محکمہ کے افسران اور ملازمین کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں ریت ،باجری اور بولڈر کی نکاسی عمل میں لاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نکاسی کی عمل سے نالہ کے دونوں سمت کھل رہے ہیں جس سے صورتحال پیدا ہونے کا پیدا ہوسکتی ہے اور کھیتیں وبستیاں تباہ ہونے کا خطرہ لاحق ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ محکمہ جات کے حکام اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ نالہ کو بچانے کیلئے ریت وباجری نکالنے والے اسمگلروں کا قافیہ حیات تنگ کرنے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دیا جائے ۔تاکہ اس قومی اثاثہ کا تحفظ یقینی بن جائے اور عوام بھی راحت کی سانس لے سکے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.