بس اسٹینڈ سوپور کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ، عوام کو مشکلات ؛ کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ،گورنر انتظامیہ سے توجہ دینے کا مطالبہ

سرینگر /26ستمبر / کے پی ایس:شمالی کشمیر میں قصبہ سوپور ایک منفرد وممتاز حیثیت رکھتا ہے اور یہ قصبہ تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے ماڈل ٹاون تصور کیا جاتا ہے اور ایپل ٹاون کے نام سے بھی موسوم ہے لیکن ہر سطح پر مذکورہ قصبہ کی حالت انتہائی خستہ اور ناگفتہ بہہ ہے ۔ اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس میں مقامی لوگوں نے نمائندے جنید شفیق کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ بس اسٹینڈ سوپور گندگی کا اکھاڑہ بناہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ بس اسٹینڈگھوڑو ں اور کتوں کا ٹھکانہ بناہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گندگی کے دھیر جمع ہونے سے ,بدبو پھیلی ہوئی ہے جس سے عام لوگوں،ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیوروں ،کنڈیٹروں اور دوکانداروں کا جینا حرام ہوگیا ہے اور اس سے تجارتی سرگرمیاں بھی بُری طرح متاثر ہیں۔انہوں نے کہا کہ معمولی بارشوں کے بعد مذکورہ بس سٹینڈ دریا کی صورت اختیار کر لیتاہے اور سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے یا اس اس طرح کیچڑ جمع ہوتی ہے جیسے وہ کھیت کھلیانوں کا منظر پیش کررہا ہے . اور کہا کہ اس دوران جو شخص گھر سے صاف وشفاف کپڑے پہن کرنکلتا ہے وہ میل کچیل واپس گھر لوٹتا ہے ۔۔انہوں نے کہا کہ. لوگوں میں اس بات کا ڈر ہمیشہ لاحق رہتا ہے کہ کئی کتے اور گھوڑے اچانک حملہ نہ کریں. جس سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے اس حوالے سے میونسپل کمیٹی کے ایگزیکٹیوآفیسر سمیر جان کے ساتھ بات بھی کی لیکن آج تک کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا ہے.جس سے ڈرائیور طبقہ اور دوکاندار حضرات پریشانی کے لمحے گذار رہے ہیں.۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم محکمہ آر اینڈ بھی کی بات کریں گے تو متعلقہ محکمہ نے بھی ہمارے ساتھ بے بنیاد وعدے کے ہیں. جس کے نتیجے میںمذکورہ بس اسٹینڈ کی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میںانہوں نے ڈپٹی کمشنر بارہمولہ اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے بس سٹینڈ سوپور کا دورہ کرکے انہیں اس دلدل اور مصیبت سے نجات دلانے میں ہماری مدد کریں تاکہ عام راہگیروں ،دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے .

Comments are closed.