۔70سال کی تاریخ میں پہلی بار 15اگست کے موقعہ پر لفٹنٹ گورنر کے خطاب کی تشہیر اردو اور دیگر مقامی زبانوں کے بجائے انگریزی میں!!!
مفاد عامہ کے پروگراموں کی تشہیربھی انگریزی زبان میں،عوام حلقوں میں غم وغصہ۔ افسران او ربیوروکریٹس کا ملاجلا ردعمل
خصوصی رپورٹ
سرینگر/25ستمبر/کے پی ایس / جموں کشمیر یونین ٹریٹری میں مقامی اور قومی زبانوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے ۔70سال کی تاریخ میں پہلی بارایسا ہوا ہے جب 15اگست کے موقعہ پر لفٹنٹ گورنر کے خطاب کی تشہیر اردو اور دیگر مقامی زبانوں کے بجائے انگریزی میں کی گئی ۔جبکہ یہاں کے عام باشندے اردو زبان کو سمجھتے ہیں اورپڑھ بھی سکتے ہیں لیکن امسال انگریزی میں گورنر کا خطاب اخبارات میں شائع ہوا جس سے لوگ موصوف کے زرین خیالات سے نابلد رہے ۔لفٹنٹ گورنر منوج سہنا نے یہاں کی اقتصادی بدحالی کو خاطر میں لاکر باضابطہ طور ایک مہم شروع کی ہے اور مفاد عامہ کے خاطر مختلف نوعیت کے پروگرام زیر غور رکھے گئے ہیں اور ان کو بالترتیب اخبارات میں شائع کرکے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن المیہ ہے کہ اس مہم کے تحت 20ستمبر کو ’’One Nation one soft ware‘‘،21ستمبر ’’Unprecedent Rs 1350 Cr Pakage For Business Revival & Growth ‘‘اور22ستمبر ’’J&Ks Recrutement Drive On Fast Track‘‘ان پروگراموں کو انگریزی زبان میں ہی شائع کیا گیا ہے اور ان عوامی مفاد ات پر مبنی پروگراموں کو سمجھنے سے عام لوگ قاصر رہے ہیں ۔لوگوں کی اکثریت نے اس حوالے سے سوالات کھڑا کئے ہیں کہ ایل جی موصوف کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات اور مفاد عامہ کے خاطر پروگراموں کو عام لوگوں تک پہچانے کیلئے اردو یا دیگر مقامی زبانوں میں تشہیر کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔جبکہ یہاں لوگوں کو زیادہ شغف اردو زبان کے ساتھ ہی ہے اور وہ اسی لئے اردواخبارات کو ہی پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ اردو زبان بہ آسانی سمجھتے ہیں اور اس میں بھی دورائے نہیں ہیںکہ یہاں اخبارات انگریزی سے زیادہ ترسیل اردو اخبارات کی ہی ہورہی ہے ۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ گورنر موصوف کی جانب سے شروع کی ہوئی مہم کے تحت پروگراموں کو اردو اخبارات میں انگریزی متن میں ہی شائع کیا جارہا ہے ۔جس کے نتیجے میں عام لوگ ان پروگراموں سے استفادہ نہیں کرسکیں گے کیونکہ انگریزی زبان میں وہ ان پروگروموں کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس نے ناظم اطلاعات و رابطہ عامہ ڈاکٹر سہرش اصغر(آئی اے ایس ) سے بات کی تو موصوفہ نے خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو باریک بینی سے دیکھے گیں ۔انہوں نے اس طرح کی شکایات کو محکمہ تک پہنچانے پر کے پی ایس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے گا ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس نے اردو اخبارات کے مالکان اور مدیران سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں کی تشہیر کیلئے محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ نے کئی مخصوص اخبارات کو انگریزی زبان میںہی اشتہارات ارسال کئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اخباری مالکان محکمہ اطلاعات کی جانب سے موصول ہونے والے اشتہارات انتظامیہ کی ہدایات پر شائع کرنے کے مکلف ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ہذا کے پاس اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں تشہیر کرنے کیلئے ایک منظم طریقہ کار موجود تھا لیکن رواں سال میں روایتی طریقہ کار بالکل تبدیل ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 70سال کی تاریخ میں پہلی بار 15اگست پر گورنر کے خطاب کی تشہیر اردواور دیگر زبانوں کے بجائے انگریزی میں کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان کے ساتھ کسی کوئی اختلاف نہیں ہے ۔البتہ یہاں لوگوں کی اکثریت آج بھی اردو زبان کو ہی بہ آسانی سمجھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ محکمہ جات سے متعلق اردو اخبارات میں انگریزی میں اشتہارات چھاپے جاتے ہیں تو اس میں کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتی ۔البتہ گورنر موصوف کی جانب سے شروع کی گئی مہم کے تحت پروگرام عام لوگوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور اردو اخبارات میں انگریزی زبان میں شائع کروانا نا اہلیت پر ہی مبنی عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر اردو ودیگر مقامی زبانوں کو محکمہ ہذا کی جانب سے نظر انداز کرکے انگریزی زبان کوفوقیت دی جارہی ہے ۔جبکہ محکمہ ہذا میں باضابطہ طور الگ الگ شعبے موجود ہیں ۔لیکن ان شعبوں میں یاتو عملہ کی کمی ہے یا توبہتر نظام کا فقدان ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سطح پر مفاد عامہ کے خاطر بیشتر اشتہارات مختلف زبانوں میں شائع ہوتے ہیں جبکہ وزیر اعظم یا صدر ہند کے خطابات کے تراجم مختلف زبانوں میں منظر عام پر لائے جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس نے محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کے جوئنٹ ڈائریکٹر حارث ہنڈو سے بات کی تو موصوف نے کہا کہ مفاد عامہ کے خاطر پروگرام کو اردو ودیگر زبانوں میں شائع کیا جارہا ہے ۔البتہ کسی وقت ترجمے کیلئے وسائل مہیا نہیں ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں انگریزی میں ہی بہ سبب مجبوری اشتہارات کو انگریزی میں ہی شائع کروائے جاتے ہیں تاہم انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ ناظم اطلاعات صاحبہ سے اس سنجیدہ نوعیت کے معاملے کو اٹھائیں گے اور اس کے بنیاد ی وجوہات سے متعلق آپ کو ضرور مطلع کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ اس پر غور کیا جائے گا ۔اس سلسلے میں کے پی ایس نے ورلڈ اردو فائونڈیشن کے سربراہ اور محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کے سابق ڈائریکٹر فاروق رنزو شاہ کے ساتھ بات کی تو موصوف نے کہا کہ ہر زبان اپنی جگہ مقدم ہے لیکن اردو رابطہ عامہ کی زبان ہے۔اردو ہماری تہذیب ہے جس کے نتیجے میں یہ زبان ہمارے لئے کا فی اہمیت کی حامل ہے اور یہاں کے زیادہ ترلوگ اسی زبان کو سمجھتے ہیں ۔لہذا اس کے بارے میں کسی منفی سوچ کے ساتھ ہم لوگ سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ میں اردو اور دیگر کئی مقامی زبانوںکے شعبے قائم ہیں اور ان کے وقت میں منظم طریقے سے کام ہورہا تھا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں انگریزی ودیگر زبانوں کی نسبت اردو زبان میں ہی زیادہ اخبارات شائع ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ انگریزی زبان میں تشہیر کوئی غلط سوچ نہیں ہے البتہ اردو زبان کی اہمیت اپنی جگہ کامل اور مقدم ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کو چاہئے کہ وہ روایات سے ہٹ کر اشتہارات کی ترسیل سے احتراز کریں ۔کیونکہ اس سے رابطہ عامہ میں رکاوٹیں پیداہوسکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اردو رابطے کی زبان ہے اس لئے اس اہمیت کو برقرار رکھا جائے ۔انہوں نے اردو کی عظمت کے بہت گوشوں کاذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس زبان میں ہماری تہذیب ،تاریخ ،صوفیت اوراپنایت بسی ہوئی ہے اور اس زبان کی خاص وصف یہ ہے ہر کوئی یہ زبان سمجھ سکتا ہے اور ہر تہذیب کے ساتھ میل کھاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مفاد عامہ سے متعلق پروگروموں کی تشہیر کیلئے مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ اردو زبان کی ضرورت ہے تاکہ عام لوگ ان پروگراموں سے استفادہ کرسکیں ۔ اس سلسلے میں کے پی ایس نے پریس انفارمیشن بیوروحکومت ہند(کشمیر )کے ڈپٹی ڈائریکٹر غلام عباس سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ انگریزی کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں کے معیار اور استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک اشتہارات کا معاملہ ہے تو اس سے متعلق یوٹی سطح پرجموں وکشمیر محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ اورقومی سطح پر ڈائریکٹوریٹ آف ایڈواٹائزنگ ویجول کیمونی کیشن ( ڈی اے وی پی )زیادہ جانکاری فراہم کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پریس انفارمیشن بیور جہاں انگریزی زبان میں اشتہارات یا خبروں کی ترسیل کررہا ہے وہیں اردو ،کشمیری ودیگر کئی زبانوں میں بھی مساوی کام کرتے ہیں اور مذکورہ ادارہ میں زبانوں کی تخصیص کے بغیر ہر زبان کی ترویج وترسیل لازمی ہے ۔کشمیر پریس سروس نے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اور سیکریٹری کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر رفیق مسعودی سے بات کی تو موصوف نے کہا کہ یہ ہم لوگ بھی اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ مفاد عامہ کے خاطر اشتہارات کو اردو کے بجائے انگریزی میں شائع کیا جارہا ہے ۔ جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہی نہیں ہے بلکہ یہ جان بوجھ کر عوام کی اکثریت کو سرکار کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات سے بے خبر رکھنے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کیلئے ضروری ہے کہ ان کے پاس اردو ودیگر زبانوں کے ماہرین ہونے چاہئے تاکہ سرکار کی بات عوام تک بہ آسانی پہنچ سکے ۔انہوں نے کہا کہ اردو رابطے کی زبان ہے اور یہاں کے عام لوگ اسی زبان کو اپناتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دوسری زبانوں کو ترجیح دینے کی آڑ میں اردو زبان کی اہمیت کو کم کرنا بنیادی مقصد ہے ۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے سے جوڑ نہیں بلکہ توڑ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جوڑنے کیلئے زمینی سطح پر جھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ عوام کس چیز کا تقاضا کررہی ہے ۔لیکن یہاں اس کے برعکس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے عوامی حلقے ایک تو سرکار ی معلومات سے ناواقف رہتے ہیں اور سرکار پر اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کے انتظامیہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر سرکاری پیغام کو لوگوں کے مزاج کے مطابق مشتہر کریں ۔جو زبان یا بات لوگوں کی اکثریت کی سمجھ سے بالاتر ہو تو وہ تشہیر بے سود ثابت ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاںاردو اخبارات کا دائرہ وسیع ہے اور قارعین کی کثیر تعداد ان اخبارات کے ساتھ ہی جڑی ہے ۔لہذا اس کو کو خاطر میں لانے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی زبان کی مخالفت نہیں کرتے ہیں کیونکہ ہر ایک زبان اپنی جگہ پرمقدم ہے تاہم صدیوں سے یہاں اردو رسم الخط رائج ہے اوراس رواج کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس نے ریڈیوکشمیر ( آل انڈیا ریڈیو سرینگر ) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر عارف کے ساتھ بات کی تو موصوف نے بتایا کہ اردو ودیگر مقامی زبانوں سے بھید وبھائوکرنے کے مختلف وجوہات ہوسکتے ہیں لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پورے برصغیر میں ہی نہیں بلکہ نصف دنیا میں اردو کو ایک خاص مقام حاصل ہے جس کو نکارہ نہیں جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اردو ہر کوئی باشندہ بول سکتا ہے سن سکتا ہے اور پڑھ سکتا ہے اور یہ بات بھی طے ہے کہ وادی میں باقی زبانوں کی نسبت اردو زبان میں ہی زیادہ تر اخبارات شائع ہورہے ہیں اور قارعین کی کثیر تعداد اردو اخبارات کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مفاد عامہ کے خاطر پروگراموںکی اردو زبان میں تشہیر کرنا ناگزیر ہے ۔کیونکہ یہاں ہر زبان بولنے والا اردو کو بہ آسانی سمجھ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اردو اخبارات میں انگریزی زبان میں شائع کئے جانے والے اشتہارات عوام کے ساتھ دھوکہ اور فریب ہے ۔انہوں نے کہا کہ اردو کو مذہب وملت کے نام پر بانٹا جارہا ہے اور منصوبہ بند سازش کے تحت اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ کسی مخصوص مذہب کی زبان نہیں ہے بلکہ اس زبان کے ساتھ ہندو ،مسلمان ،پارسی ،بودھ ،سکھ اوردیگر مذاہب کے لوگ وابستہ ہیں ۔اردوکو جہاں امیر خسرو ،غالب ، میر اور اقبال نے اپنایاہے وہیں پریم چند،جگت نرائن کے ساتھ ساتھ بہت سے عظیم انسانوں نے اپنایا ہے۔کے پی ایس نے اردو وکشمیر ی زبان کے محقق ،نقاد اور کشمیر یونیورسٹی شعبہ اردو و کشمیر ی کے سابق سربراہ اور ڈین پروفیسر محمد زمان آزردہ سے بات کی تو موصوف نے کہا کہ مفاد عامہ کے خاطر معلوماتی اشتہار ات کو ترجمے کے ساتھ شائع کرنا ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں زیادہ اردواخبارات کی ترسیل ہورہی ہے اور اردو اخبارات میں انگریزی متن میں اشتہارات شائع کرنا غیر اصولی عمل ہے بالخصوص جو اشتہارات مفاد عامہ کے خاطر ہو ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو ودیگر مقامی زبانوں پر دست رس رکھنے والے افراد کو تعینات کرکے تراجم کو ممکن بنائیں تاکہ عام لوگ سرکار کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات سے استفادہ کرسکیں۔ ۔اس سلسلے میں کے پی ایس نے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سابق سرابراہ اور سابق ڈین اسکول آف میڈیا سٹیڈیز ( سنٹرل یونیورسٹی کشمیر )ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی سے بات کی تو موصوف نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بالخصوص اردو زبان رابطے کی زبان بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں ہر کوئی زبان بولنے والا شخص اردو سمجھ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے بیشتر لوگ انگریزی نہیں سمجھتے ہیں ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ اطلاعات و دیگر زبانوں کے ساتھ مفاد عامہ کے خاطر اشتہار ترجمے کے ساتھ شائع کریں اوراس بات کا خیال رکھیں کہ یہاں لوگ زیادہ تر اردو زبان ہی سمجھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی زبان کی مخالفت میں کھڑے نہیں ہیں البتہ اردو کی اہمیت کی کو برقرار رکھنا لازمی ہے کیونکہ اردو یہاں کے ہرطبقے اور ہر مذہب کے لوگوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔ کے پی ایس نے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ نظام فاصلاتی تعلیم Distance educationکے کواڈی نیٹر ڈاکٹر الطاف انجم سے بات کی تو موصوف نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہاں صرف 5فیصدی ہی لوگ انگریزی سمجھتے ہیں جبکہ ہرزبان بولنے والے 95 فیصدی لوگ اردو سمجھ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک منصوبہ سازش کے تحت سرکاری سطح پر اردو کی اہمیت کم کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسری زبانوں سے محبت نہیں ہے بلکہ ان کوسرکاری زبان کا درجہ دینے کی آڑ میں اردو کو زک پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ مرنے والی زبان نہیں ہے بلکہ زندہ اور دائمی زبان ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ اردو اخبارات میں مفاد عامہ کے خاطر اشتہارات انگریزی زبان میں شائع کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات عوامی رابطہ کیلئے ہی قائم ہے اورمحکمہ ہذا کے انتظامیہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئندہ اردو ترجمے کے ساتھ اشتہارات یا دیگر معلومات اردو اخبارات میں شائع کرائیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جموں وکشمیر میں شائع ہونے والے اخبارات 90فیصد اردو زبان میں ہی شائع ہوتے ہیں ۔لہذا محکمہ اطلاعات کو شعبہ اردو مستحکم بنانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔کے پی ایس نے فکشن رائٹرس گلڈکے سرپرست وحشی سعید سے بات کی تو موصوف نے صاف الفاظ میں بتایا کہ دوسری زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے باوجود بھی اردو زبان کو سرفہرست رکھا گیا ہے اور ہر شعبہ کو چاہئے کہ وہ اردو کی اہمیت کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہ کریں بلکہ اس زبان کی ترویج کیلئے عملہ کی تعیناتی کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کا کام ہی ہے کہ عوام تک سرکاری معلومات پہنچائے لیکن محکمہ ہذا کے انتظامیہ کو نوٹ کرنا چاہئے کہ وہ اردو زبان کیلئے ادارہ میں نظام کو مستحکم بنانے میں رول نبھائیں کیونکہ یہاں کی اکثریت اردو سمجھتی اور جانتی ہے ۔کے پی ایس نے اس سلسلے میں ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹی کے صدر اعجاز احمد خان سے بات کی تو موصوف نے کہا کہ زبانوں کی ترویج ماحول کے مطابق لازمی بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں 90فیصدی لوگ اردو زبان کو سمجھتے ہیں اور اردو یہاں کے ماحول میںبسا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے خاطر اشتہارات کولازماً اردو میں مشتہرکیا جانا چاہئے ۔ورنہ انگریزی زبان میں مشتہر کرنے سے ان معلومات کو عوام تک پہنچانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اردو زبان پر صریحاً ایک حملہ ہے ۔ اس سلسلے میں کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے سوسائٹی آف آرٹ اینڈ لٹریچرکے جنرل سیکریٹری پروفیسرایم اے صوفی نے کہا کہ معلومات عامہ کے اشتہارات اردو اخبارات میں انگریزی متن میں اور گورنر کے خطاب کو انگریزی ترجمے میں ہی اخبارات میں شائع کرانا محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ناظم اطلاعات کے عہدہ پر ادیب اور زبان دان فائز ہوتے تھے جو ماحول کے مطابق زبانوں کی اہمیت کو سمجھ کر ہی بروئے کار لاتے تھے تاہم آج کے دوران میں اعلیٰ تعلیم یافتہ بیورکریٹس کو ان حساس عہدوں پر تعینات رکھا جاتا ہے جو ان معاملات سے ناواقف ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ خود بالغ النظر ہوتے ہیں لیکن زمینی حقائق اور عوام کے مزاج کو پرکھنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اردو جو یہاں رابطے کی زبان ہے اور لوگوں کی اکثریت اس زبان سے جڑی ہے اس کو نظر انداز کیا جارہا ہے تو دوسری مقامی زبانوں کی ترویج یا ان کو خاطر میں لانا دور کی بات ہے ۔کشمیر پریس سروس نے اس حوالے سے راج بھون کے پبلک رلیشن آفیسر ( پی آر او )رجیش جی کو باربار فون پر بات کرنا چاہا تاہم موصوف نے فون اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی اور فون کاٹتے رہے اور یہ بات بھی کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ اس حساس دفتر سے ایک ذمہ دار آفیسر ٹال مٹول کی پالیسی پر گامزن ہے ۔
Comments are closed.