امشی پورہ جھڑپ کے بارے میںپولیس بیان پر عمر عبداللہ کا سوال

کہا تینوں نوجوان راجوری کے تھے تو قابل اعتراض مواد کہاں سے آیا ؟

سرینگر/25ستمبر: امشی پورہ شوپیان جھڑپ کے بارے میں آئی جی پی کشمیر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سوالیہ انداز میںکہا’’تینوں راجوری کے نوجوان تھے تو قابل اعتراض مواد کس نے وہاں رکھا تھا ‘‘۔ سی این آئی کے مطابق امشی پورہ شوپیان جھڑپ کے بارے میں آئی جی پی کشمیر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ڈی این اے نمونوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں نوجوانوں کا تعلق راجوری سے تھا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبد اللہ نے سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’’فوج و پولیس بیان کے مطابق جھڑ پ کے مقام سے اسلحہ و گولہ بارود کے علاوہ قابل اعتراض مواد بھی بر آمد کر لیا گیا تھا تو کس نے وہاں قابل اعتراض مواد لگایا تھا ‘‘۔انہوں نے مزید لکھا کہ جموں کشمیر پولیس نے اعتراف کیا کہ جھڑ پ میں تین بے گناہ شہری مارے گئے ۔کیوں مژھل اور پتھری بل فرضی جھڑپوں سے کچھ سکھا یا نہیں گیا ۔ قابل ذکر ہے کہ امشی پورہ جھڑپ کے بارے میں فوج نے گزشتہ دنوں اپنے بیان میں کہا تھا کہ جھڑپ میں افسپا اختیارات کا غلط استعمال ہو ا تھا جبکہ آج پولیس نے کہا کہ تینوںنوجوانوں کے ڈی این اے رپورٹ راجوری کے تین خاندانوں سے میل کھاتے ہیں ۔ جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جھڑپ میں جنگجو نہیں بلکہ راجوری کے تین نوجوان جاں بحق ہوئے ہیں ۔

Comments are closed.