امشی پورہ جھڑپ :تین نوجوانوں کے ڈی این اے نمونے ان کے والدین سے میل کھاتے ہیں / وجے کمار

’’ہم آگے کی کارروائی لوازمات پوری ہونے کے بعد ہی شروع کریں گے‘‘

سرینگر/25ستمبر: امشی پورہ شوپیان جھڑپ میں مارے گئے تین نوجوانوں کے ڈی این اے نمونے ان کے والدین سے ملتے ہیں کا اعتراف کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ اس معاملے میں آگے کی کارروائی لوازمات پوری ہونے کے بعد ہی شروع کریں گے۔ سی این آئی کے مطابق سی آر پی ایف اور فوج کے آفیسران کے ہمراہ پی سی آر سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں کے سوال کے جواب میں آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ امشی پورہ جھڑپ میں مارے گئے تینوں نوجوانوں کے ڈی این اے رپورٹ راجوری کے تینوں خاندانوں سے میل کھاتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ‘‘ہم نے راجوری کے تین گھرانوں کے ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل کر لی ہے جو اْن تین نوجوانوںسے میل کھاتی ہے جو امشی پورہ شوپیان میں مارے گئے تھے۔ہم آگے کی کارروائی لوازمات پوری ہونے کے بعد ہی شروع کریں گے‘‘۔خیال رہے کہ 18جولائی کو شوپیان کے امشی پورہ علاقے میں ایک مسلح تصادم آرائی کے دوران فوج و فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپ میں تین جنگجوئو ں کو جاں بحق کیا گیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی بر آمد کر لیا گیا جس کے بعد راجوری کے تینوں کنبوں نے جھڑپ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ میں جنگجو ئوں نہیں بلکہ ان کے تین لخت جگروں کو ہلاک کر دیا گیا ۔ راجوری کے کنبوں کے دعوئوںکے بعد فوج اور پولیس نے الگ الگ جھڑپ کی تحقیقات شروع کر دی تھی اور حالیہ دنوں فوج نے اعتراف کیا تھا کہ جھڑپ میں مارے گئے تینوں نوجوان راجوری کے تھے جبکہ پولیس نے بھی ڈی این اے نمونے حاصل کئے تھے جس کے بعد آج یہ بات سامنے آئی کہ راجوری کے تین گھرانوں کا دعویٰ صحیح ہے جنہوں نے الزام عائد کیاہے کہ امشی پورہ شوپیان میں جاں بحق نوجوان اْن کے چشم و چراغ تھے جو بقول اْنکے مزدوری کیلئے جنوبی ضلع شوپیان گئے ہوئے تھے۔

Comments are closed.