ترال کے بعد سرہامہ بجبہاڑہ میں 14گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح تصادم آرائی ختم
مقامی لشکر کمانڈر غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ، رہائشی مکان زمین بوس ، اسلحہ و گولہ بارود ضبط
جھڑپ کے مقام پر بارودی مواد پھٹ جانے سے چار افراد زخمی ، دو نازک حالت میں سرینگر منتقل
سرینگر/25ستمبر: ترال کے بعد سرہامہ بجبہاڑہ میں قریب 14گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح تصادم آرائی میں لشکر کمانڈر اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ہو گیا جبکہ رہائشی مکان بھی زمین بوس ہو گیا ۔ اسی دوران جھڑپ کے مقام پر بارودی شل پھٹنے سے چار شہری زخمی ہوگئے۔جن میں سے دو کو علاج و معالجہ کیلئے سرینگر منتقل کر دیا گیا ۔ جموں کشمیر پولیس نے جھڑ پ میں دو اعلیٰ لشکر کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں جنگجوئوں سے اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کر لیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرہامہ بجبہاڑہ علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کی 3 آر آر ،سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے مشترکہ طور علاقہ کوجمعرات کی شام گئے علاقے کو محاصرہ میں لیا اور وہاں تلاشی کارورائیاں شروع کر دی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی علاقے میں تلاشی کارروائی شروع کر دی گئی تو علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میںسیکورٹی فورسز پر شد ید فائرنگ کی ۔ جس کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارورائی کی اور طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا ۔ ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں گولیوں کی گن گرج سنائی دینے کے ساتھ ہی پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا جبکہ فورسز کی اضافی کمک علاقے کی طرف روانہ کی گئی جنہوں نے پورے علاقے کا محاصرہ تنگ کرکے جنگجوئوں کے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ علاقے میں کچھ منٹوں تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا تاہم اندھیرا ہونے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا تھاجس کے ساتھ ہی فوج و فورسز نے پورے علاقے کا گھیرہ تنگ کرکے وہاں روشنی کے آلات بھی نصب کر دگئے جبکہ رات کے دوران بھی کئی مرتبہ علاقے میں گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کی ا علیٰ صبح علاقے میں آپریشن دوبارہ بحال کر دیا گیا اور ایک رہائشی مکان میںمحصور جنگجوئوں کو خود سپردگی کرنے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے ٹھکرادی اور طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ پھر سے شروع ہو ا جس کے بعد فورسز نے بارودی مواد سے مکان کو اڑا دیا اور اس میں موجود دو جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ پولیس نے جھڑپ میں دو جنگجوئوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں جنگجو ئوں کا تعلق عسکری تنظیم لشکر طیبہ سے تھا اور وہ اعلیٰ کمانڈر بھی تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ جائے تصادم پر اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے جھڑپ سے متعلق جاری کردی بیان کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع انت ناگ کے سرہامہ علاقے میں جنگجوئوں کے موجود ہونے کی ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر پولیس،03 آر آر اور سی ار پی ایف نے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔ دوران تلاشی علاقے میں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کا موقع فراہم کیا گیا ، تاہم انہوں نے سیکورٹی فورسز پر گولیاں چلائی اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی ۔اس جھڑپ میںدو جنگجو ہلاک ہوئے ۔جھڑپ کی جگہ جنگجو ئوں کی نعش برآمد ہوئی۔اس کی شناخت عادل احمد بٹ ساکن پلوامہ او ر پاکستانی ابو ریحان عرف توحید کے بطور ہوئی ہے ۔تصادم آرائی کی جگہ سے اسلحہ و گولہ بارود اور ْقابل اعتراض موادبرآمد ہوا۔ بازیاب ہونے والے تمام سامان کو مزید تفتیش اور عسکری کے دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لئے کیس ریکارڈ میں لیا گیا ہے۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس کو متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا اور مذید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔کورنا کی وجہ سے پھیلنے والی وبائی بیماری کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لوگوں کو انفیکشن کا خطرہ ہونے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ، مارے جانے والے جنگجو ئوں کے تدفین کو ہندوارہ بھیجا جائے گا۔ .ہلاک ہوئے جنگجو کے قریبی کنبہ کے افراد کو آخری رسومات کے لئے ہندوارہ میں شرکت کر نے کی اجازت ہوگی۔لوگوں سے درخواست ہے کہ جب تک اس علاقے کو مکمل طور پر صاف ستھرا نہیں کیا جاتا اور تمام دھماکہ خیز مواد کو صاف نہیں کیا جاتا ہے تو وہ پولیس سے تعاون کریں۔اسی دوران جھڑپ کے بعد علاقے میں اس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب جھڑپ کے مقام پر بارودی مواد پھٹنے سے چار شہری زخمی ہوگئے۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ ختم ہونے کے ساتھ ہی مقامی لوگ مذکورہ جگہ پر جمع ہوکر تباہ شدہ مکان کا ملبہ ہٹانے لگے جس کے دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کی زد میں آکر چار افراد زخمی ہوگئے۔زخمیوں کی شناخت محمد یاسین راتھر ساکن سرہامہ،شاہد یوسف ساکن بنہ نامبل، عرفان احمد بٹ ساکن بنہ نامبل اور مدثر احمد ماگرے ساکن سرہامہ کے طور ہوئی ہے۔جن میں سے یاسین اور شاہد کو علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے صدر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
Comments are closed.