بیک ٹو ولیج پروگرام فضول مشق ،عوامی حلقوں کا انکشاف ؛ دو مراحل میں ابھارے گئے مسائل جوں کے توں ،کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ،وعدے سراب ثابت

روزگار کے وسائل تلاش کرنا اور نجی سیکٹر کو مستحکم بنانے کی طرف سرکار توجہ دیں

سرینگر /19 ستمبر/کے پی ایس : بیک ٹو ولیج کا تیسرا مرحلہ بھی شروع ہوا تاہم لوگوں کے مسائل کا کوئی سدباب نہیں ہوپارہا ہے بلکہ مسائل میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے جس سے لوگوں کے مشکلات بدستور ہیں ۔اب تک اس کے دو مراحل طے کئے گئے ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں بلکہ گذشتہ برسوں میںجو مسائل بیک ٹو ولیج کے دو مراحل میں لوگوں نے اٹھائے ہونگے وہ جوں کے توں ہی ہیںاور زمینی سطح پر اس میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں ملتی ہے ۔اب چونکہ سرکار نے لوگوں کے مسائل کو ایک بار پھر سنیں کیلئے بیک ٹوولیج کا تیسرا مرحلہ شروع کیا ہے جو خوش آئند قدم ہے لیکن لوگوں کی دلچسپی اس حوالے سے بالکل کم ہوئی ہیں کیونکہ اب تک یہ فضول مشق ہی ثابت ہوئی ہے ۔اس سلسلے میں مختلف علاقوںسے کشمیر پریس سروس کو ذی عزت شہریوں نے بتایا کہ بیک ٹو ولیج پروگرام واقعی مفاد عامہ کیلئے بہترین قدم تھا اور ان پروگرام میں اعلیٰ افسران نے مقامی افسران کی موجودگی میں لوگوں کے مسائل سنیں اور ان مسائل کو حل کے حوالے سے ایک فہرست مرتب کرکے سرکار اس پر خرچ ہونے والے رقومات کا تخمینہ بھی روانہ کیا ۔متعلقہ افسران کو بھی ہدایت دی گئی کہ لوگوں کے درپیش مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے جونہی ان کو ہری جھنڈی دکھائی جائے گی تو وہ بغیرکسی تاخیر کے تیزرفتاری سے کام شروع کریں ۔لیکن یہ پروگرام صرف ’’ہاتھی کے دانت کھانے اور دکھانے کے اور ‘‘ کے مترادف ثابت ہوئے ۔کیونکہ ابھی تک وہ مسائل اور معاملات جوں کے توں ہی ہیں اور پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہوگا کہ مسائل اور مشکلات میں پہلے سیاضافہ ہی ہورہا ہے ۔اس ضمن میں کشمیرپریس سروس نے سیو ل سوسائٹی رفیع آباد کے روح رواں پیرزادہ بشارت معراج کے ساتھ بات کی تو موصوف نے بتایا کہ جس چکچائو کے ساتھ بیک ٹوولیج کے دومراحل پر پروگرام منعقد کئے جن میں بالترتیب افسران کے ساتھ ساتھ لوگوں کی خاصی تعداد نے جوش وخروش کے ساتھ شرکت کی اور ان پروگراموں کے توسط سے وہ امیدلئے ہوئے تھے کہ ان کے مسائل حل ہونگے ۔لیکن وہ امیدیں اب تک بھر نہیں آئیں ۔انہوں نے کہا کہ جو مسائل اس وقت لوگوں نے اجاگر کئے ۔وہ تمام کے تمام زیر بحث ہی ہیں جبکہ کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیک ٹو ولیج کے دوسرے مرحلے میں کے ایس آفیسر غلام جیلانی زرگر نے ڈنگی وچھہ میں منعقدہ پروگرام کے دوران مسجد سعد کے احاطے میں ایک سنٹری بلاک کی سنگ بنیاد رکھی لیکن کافی عرصذہ گذرنے کے بعد بھی وہ سنگ بنیاد جوں کی توں ہے ۔انہوں نے کہاکہ پروگراموں میںجن افسران نے شرکت کی انہوں نے مسائل کی فہرست باضابطہ طور مرتب کرکے سرکار کو روانہ کئے لیکن اب تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکا ۔اس طرح سے یہ فضول مشق ہی ثابت ہوئی ۔ ادھر مقام شاہ ولی درگمولہ کے سرپنچ محمدشفیع نے کے پی ایس کو بتایا کہ بیک ٹو ولیج پروگراموں کا مقصد ہی فوت ہوچکا ہے کیونکہ جس مقصد کیلئے یہ پروگرام عمل میں لائے جارہے تھے وہ پورا ہونا تو دور کی بات ہے ان پر کوئی قدم بھی نہیں اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیک ٹو ولیج پروگراموں کو منعقد کرنے کیلئے انہوں نے اپنے جیب سے پیسے خرچ کئے تھے لیکن کافی عرصہ گذرنے کے باوجود بھی وہ پیسے واگذار نہیں کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنچایت گھر ویران ہیں اور پنچوں وسرپنچوں کو میٹنگ کیلئے کوئی جگہ فراہم نہیں ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہان کے علاقہ کے لوگوں نے اس وقت مسائل بشمول سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے پروگرام میں موجود افسران کے گوش گذار کئے تھے لیکن کوئی ایک مسئلہ بھی اب حل نہیں ہوسکا ۔انہوں نے صرف14FC میں ان کو 10لاکھ80ہزار روپے ملے تھے جس سے کئی جگہوں پر تھوڑا سا کام ہوسکا ۔انہوںنے کہا کہ اب تیسرا مرحلہ شروع کیا گیا ہے اور وہی مسائل آج بھی دہرائیں گے جو پہلے دو مراحل میں اٹھائے گئے ہیں۔کیونکہ وہ مسائل ویسے ہی پڑے ہوئے ہیں ۔

Comments are closed.