کووڈ19کا سیاہ سایہ سیاحت پر غالب ؛ وادی میں سیاحتی مقامات سیاحوں کے منتظر

سرینگر/19ستمبر: وادی کے سیاحتی مقامات اور باغات جو ان دنوںملکی ،غیرملکی سیاحوں اور مقامی سیلانیوں سے بھرے پڑے ہوتے تھے آج ویرانی کا منظر پیش کررہے ہیں جس کے نتیجے میں سیاحتی مقامات میں قائم دکانیں، ہوٹل ، ریستوران اور شوروم بھی بند پڑے ہیں اور سیاحوں کی آمد کے منتظر ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ ایک برس سے تمام سیاحتی مقامات ، پارکیں اور باغات بند پڑے ہیں جبکہ کووڈ 19کے پیش نظر فی الحال ان باغات کو سیلانیوں کیلئے کھولا نہیں گیا ہے۔ وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں مختلف مشہور سیاحتی مقامات قائم ہیں اور درجنوں باغات اور تفریحی پارکیں موجود ہیں جو آج ویرانی کا منظر پیش کررہی ہے ۔ سیاحتی مقامات اور سیاحتی باغات اس وقت سیلانیوں اور سیاحوں سے بھرے پڑے ہوتے تھے جہاں پر دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح آتے تھے ۔غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ دیسی سیلانی بھی بڑی تعداد میں سیاحتی مقامات پر جاکر قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوجاتے تھے ۔ ان کے علاوہ مقامی سیلانی بھی بڑی تعداد میں سیاحتی مقامات پر سیر و تفریح کرتے ہوئے نظر آتے تھے لیکن امسال کوروناوائرس کے پیش نظر تمام سیاحتی مقامات بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے سیاحتی مقامات پر قائم ہوٹل، رستوران اور دکانیں بھی سیاحوں کی منتظر ہے کہ کب سیاح دوبارہ ان جگہوں پر آکر ان کی رونق بڑھائیں ۔ یاد رہے کہ وادی کشمیر میں کووڈ19کے معاملے میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس وائرس میںمبتلاء ہورہے ہیں ۔ کووڈ کی تشویشناک صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے سیاحتی مقامات کو فی الحال بند رکھا گیا ہے ۔

Comments are closed.