اخروٹ صنعت زوال پذیر ہونے کے بنیادی وجوہات ؛ قیمتوں میں بے اعتدالی ،محکمہ ہاٹی کلچر کی عدم دلچسپی ، منڈیوں ابترصورتحال ،پیدوار میںکمی اورجدید تقاضوں سے ناآشنائی

سرینگر /17ستمبر /کے پی ایس : وادی میں بادام کی طرح اخروٹ کی صنعت اقتصادی بہتری کا اہم ذریعہ ہے اور اس صنعت پر مالکان درختان یا اخروٹ صنعت سے وابستہ افراد کو ایک مخصوص سیزن میں اس پر محنت کرنی پڑتی ہے جبکہ اخروٹ کی فصل میں جراثیم کش ادویات یا دیگر لوازمات کا عمل دخل نہیں ہے ۔اس اعتبار سے یہ صنعت میوہ صنعت سے بھی یہاں کے عوام کیلئے سود مند اور بارآور ثابت ہوتی تھی لیکن گذشتہ چند برسوں سے اخروٹ اور گریوں کی قیمتوں میں بے اعتدالی یا گراوٹ کی وجہ سے یہ صنعت زوال پذیر ہورہی ہے اور اس صنعت سے وابستہ لوگ متنفر ہوئے ہیں ۔یہاں اخروٹ صنعت کو فروغ دینے کیلئے صرف کپوارہ کے ضلع ہیڈ کواٹر منڈی درجہ حاصل ہے جہاں پر اخروٹ اور گریوں کی خریدوفروخت کاکاروبار اعلیٰ پیمانے پر کیاجارہا ہے جبکہ اس صنعت کے فروغ کیلئے کئی اور منڈیاں قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے ۔ اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کئی بیوپاریوں نے کہا کہ موسمی خرابی کی وجہ سے اخروٹ یعنی ڈرائی فروٹ کے رنگ اور ذائقہ میں تبدیلی آتی رہتی ہے تاہم یہاں کے مخصوص دیہات میں اخروٹ کی گریوں کا رنگ اور وزن بہتر ہونے کے باوجود بھی خسارہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اخروٹ اور گریوں کی قیمتوں میں بے اعتدالی رہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عام زمیندارومالکان درختان اخروٹ درخت پر ہی ایسی قیمتیں لگاتے ہیں جو ناقابل فروخت ہوتے ہیں اور درخت گرانے یا گریاں نکالنے کیلئے مزدوری بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے جبکہ منڈیوں میں قیمتیں اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیںاور اس صنعت سے وابستہ افراد فائدہ کے بجائے نقصان کے شکار ہوجاتے ہیں اور قرضوں تلے دب چکے ہیں ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس نے کپوارہ منڈی کے ایک نامور بیوپاری حاجی محمد افضل ملک جو 40سال سے اخروٹ صنعت کے ساتھ وابستہ ہیں سے بات کی تو موصوف نے کہا کہ اخروٹ کی صنعت کے زوال پذیر ہونے کے بنیادی وجوہات محکمہ ہاٹی کلچرکی عدم توجہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے متعلقہ افسران اس صنعت کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں اور مالکان اخروٹ درختان کو جدید یت سے متعلق جانکاری فراہم نہیں کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یہاں کے اخروٹ درختوں کی بنیادی ساخت ختم ہوچکی ۔انہوں نے کہا کہ یہاں سوا سال کے درختان موجود ہیں اور نئے درختان کے باغ لگانے کی طرف ترغیب نہیں دی جارہی ہے جبکہ دیگر ممالک بشمول امریکہ میں نئے طرز پر اخروٹ کے درخت لگاجارہے ہیں لیکن یہاں اس طرح کاکام نہیں کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں اخروٹ کی پیدوار میں آئے کمی دیکھنے کو ملتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں اخروٹ صنعت کیلئے صرف ایک ہی منڈی کپوارہ میں قائم ہے لیکن یہ منڈی بھی سرکار کی عدم توجہی کی شکار ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں کی منڈی میں اخروٹ اورگریوں کی قیمتوں میں بے اعتدالی ہوتی ہے اور یہاں کے صنعت کاروں کی قیمتیں ان سے زیادہ ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں یہاں کے صنعت کار خسارہ کے شکار ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آجکل کپوارہ منڈی میں300سے 800روپے کی قیمتیں گردش کررہی ہیں لیکن جموں میں ایک ایک سو کم قیمتیں ملتی ہیں جس سے یہاں کے بیوپاری پریشان ہورہے ہیں اور اس بے اعتدالی سے صنعت بُری طرح متاثر ہوتی ہے ۔اس طرح سے موجودہ سرکار پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کپوارہ منڈی کو مستحکم بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ،قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے اور جدید طرز پر اخروٹ کے درختان لگانے کی ترغیب دی جائے ۔محکمہ ہاٹی کلچر کو متحرک ہونے کی ہدایت دی جائے تاکہ وہ اخروٹ درختان کے باغات بنانے اور پیدوار میں بڑھوتری کیلئے جدید اصولوں سے متعلق زمینداری کو جانکاری فراہم کی جائے اور اس صنعت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں اور صنعت سے وابستہ افرادکی مالی معاونت کی جائے بنکوں سے اٹھانے والے قرضوں کے شرح سود کم رکھا جائے ۔ تاکہ یہ اہم صنعت زوال پذیر ہونے سے بچ جائے گی ۔

Comments are closed.