بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں غیر قانونی تعیناتی کا انکشاف
پروفیسر کی من مانیوں کی وجہ سے معطلی کے احکامات صادر کئے گئے / یونیورسٹی انتظامیہ
سرینگر /17ستمبر / کے پی ایس : بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے نظام میں پہلے سے کافی تبدیلی اس وقت آشکار ہوئی جب یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ میں تعینات پروفیسرایم اصغر غازی کے نام معطلی کے احکامات صادر کئے گئے ۔یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت نے موصوف کی من مانیوںکا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ان کو معطل کیا ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق پہلے وایس چانسلر کے دور میں ہوئی غیر قانونی تعیناتیوں کی وجہ سے یونیورسٹی آج بھی بحران کی شکار ہے تاہم موجودہ وائس چانسلر تعینات عملہ کے حرکات وسکنات پر بھر پور نظر رکھے ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق محمد اصغر غازی نامی جو انجینئرنگ کالج کے ڈین کو معطل کیا گیا ہے۔ موصوف پروفیسرکی غیر قانونی تعیناتی کے متعلق کافی انکشافات ہوئے ہیں کہ موصوف کی تعیناتی سال 2005میں بحیثیت ریڈر کے ہوئی تھی ان کی تعیناتی بنا کسی سلیکشن کمیٹی کے عمل میں لائی گئی یہ عمل نہ صرف نا انصافی پر مبنی تھی بلکہ یوجی سی کی عین خلاف ورزی ہوئی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ ایم اصغر غازی جب ریڈر یا ایسوسیٹ پروفیسر بنائے گئے ہیںاس وقت وہ دستور العمل کیمطابق اس پوسٹ کے اہل نہیں تھے اس وقت تک وہ کسی ایم فل یا پی ایچ ڈی اسکالرکے سپروائزر تک نہیں بنے تھے،جبکہ یو،جی،سی کے قوانین کے مطابق کسی بھی ایسوسیٹ پروفیسر اسامی کی بھرتی کے لیے یہ لازمی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جب موصوف کی بطور ریڈر تعیناتی عمل میں لائی گئی تب یونیورسٹی انتظامیہ نے ان پر مہربان ہوکربطور تحفہ پانچ اضافی انکریمنٹ سے بھی نوازا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم۔اصغر غازی کو یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے تمام قوانین کو پس پشت رکھ کے2006 میں پروفیسر تعینات کیا گیا، جبکہ موصوف اس وقت پروفیسر بننے کہ اہل نہیں تھے۔2006 میں پروفیسر کی تعیناتی کے لیے جو اشتہار منظر عام پر آیا وہ زیر نمبر BGSBU/Estab/2006/4222-4229 بتاریخ 2006-08-10 تھا جس میں متعلقہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے 3 مشہور ترین تحقیقی مقالوں(Research papers) کی چار کاپیاں درخواست کے ساتھ جمع کرنی لازمی تھیں جبکہ اس وقت موصوف کے پاس صرف دو ہی ریسرچ (Research papers) پیپر جمع کرائے تھے UGCکے مطابق پروفیسر کے عہدے پر فائز ہونے کیلئے پوسٹ گریجویٹ درس وتدریس میں دس سال تجربہ لازمی قرار دیاگیا ہے جبکہ موصوف کی تجرباتی تفصیلات یعنی Resume کے مطابق موصوف نے کالج لیول پر ہی اس وقت طلبہ کو پڑھایا تھا اس طرح سے موصوف اس پروفیسرعہدہ کے لئے نہ صرف نااہل تھے بلکہ وہ پروفیسر کے انٹرویومیں بلائے جانے کے مستحق بھی نہ تھے ۔معلوم ہوا ہے کہ اس وقت باقی درخواست دہندہ عالمی سطح کے قابل ترین لوگ موجود تھے ،جو UGCکے مطابق اس عہدہ کے اہل تھے لیکن ذاتی طرفداری اور اثر رسوخ کی بناء پرموصوف کی تعیناتی غیر آئینی بنیادوں پر عمل میں لائی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق پروفیسر کے انتخاب کے لیے سلیکشن کمیٹی میں صرف پروفیسرہی ممبر یا ایکسپرٹ کی حیثیت سے بیٹھ سکتے ہیں لیکن موصوف کو پروفیسر منتخب کرنے والے ایکسپرٹ خود ہی ایسوسیٹ پروفیسر تھے جنہوں نے نومبر 2006 میں بطور ایکسپرٹ انٹرویو لینے کے فرائض انجام دئے جو کہ یو جی سی کے قوانین کے عین خلاف تھااور المیہ ہے کہ مذکورہ ایکسپرٹ خود اس کے بعد مارچ2007 میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیںجبکہ باقی دوایکسپرٹ کا تعلق بھی ایم غازی کے مضمون سے نہ تھا۔ اس طرح سے پروفیسر تعیناتی عمل کے دوران یلیکشن کمیٹی میںاس وقت کوئی تسلیم شدہ چانسلر نامنی (Nominee) نامزد نہ تھے۔ذرائع کے مطابق اسی پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ یونیورسٹی کے اسوقت انتظامیہ نے موصوف کو شعبہ کمپیوٹر کا ہیڈ بھی مقرر کر دیا اور 2009 میں اسکول آف میتھا میٹکل ) کا ڈین مقرر کر دیا گیا اور حیران کن بات یہ ہے کہ ٹھیک 2010 میں وہ پرنسپل کالج آف انجینئرنگ کا عہدہ بھی تفویض کیا گیا حالانکہ یو جی سی کے مطابق موصوف ان میںسے کسی بھی پوسٹ کے لئے اہل (Eligible) نہیںتھے جبکہ موصوف انجینئرنگ بیک گراونڈسے نہ ہوتے ہوئے بھی 2020تک اس اہم منصب پر براجماں رہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دنوں میں موجودہ وائس چانسلر کو کالج آف انجینئرینگ میں مالی غبن (Financial corruption) کی شکایات موصول ہوئی ابتدائی کاروائی کے دوران مالی غبن کے بنیاد پر معطل کر دیا گیاہے۔موصوف کی معطلی کے سلسلے میں کشمیر پریس نے یونیورسٹی انتظامیہ رابطہ قائم کیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایم اصغر غازی کو مطلع کیا گیا ۔انہوں نے معطلی کے وجوہات کے حوالے سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کے متعلق کئی سالوں متوتر طور شکایات موصول ہورہی تھیں اور وقت وقت پران کے نام show cause نکالی گئی اور موصوف نے انتظامیہ کے سامنے کئی بار معافی نامے بھی جمع کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موصوف کوئی انجینئر نہیں ہے ۔انجینئرنگ شعبہ کو مستحکم کرنے کیلئے انتظامیہ سیول انجینئروں کی تعیناتی عمل میں لائی اور قواعد وضوابط کے مطابق موصوف کو تعینات انجینئروں کو چارج دینا تھا لیکن موصوف نے اس پر عمل نہیںکیا ۔اس کے علاووہ یونیورسٹی رجسٹرار نے موصوف نے نام کئی تحریری خطارسال کئے لیکن ان کا کوئی جانب وصول نہیں پایا ۔علاوہ ازیں وائس چانسلر نے کئی مرتبہ ان کو فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو موصوف پراہ کئے بغیر فون اٹھانے کی زحمت گورا نہیں کی ۔تو انتظامیہ نے ان کو دو بار show causeنوٹس نکالی لیکن ان کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا ۔ان تمام شکایات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے وائس چانسلر نے متعلقہ انتظامیہ کے سامنے ان کا معاملہ رکھا تو بالآخر متفق طور ان کو موصوف کے خلاف معطلی کے احکامات جاری کئے ۔
Comments are closed.