5اگست2019کے بعد جموںوکشمیر جبر و استبداد کی داستان لکھی جارہی ہے؛ حسنین مسعودی نے مبینہ شوپیان فرضی انکائونٹر اور سوپور حراستی ہلاکت کے معاملات لوک سبھا میں اُٹھائے

سرینگر/16ستمبر: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے سوپور میں نوجوانوں کی پُراسرار ہلاکت اور مبینہ شوپیان فرضی تصادم میں 3نوجوانوں کی ہلاکت کے معاملات آج لوک سبھا میں اُٹھائے۔ سی این آئی کے مطابق انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہا کہ 5اگست2019کے غیر آئینی فیصلے کے بعد جموںوکشمیر میں ظلم و جبر کی ایک داستان لکھی جارہی ہے۔مرکزی حکومت نے اپنے فیصلوں کو صحیح جتلانے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائیں گئیں اور اب فرضی انکائونٹروں اور حراستی ہلاکتوں سے جبر و استبداد کے نئے ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں۔ ایک ماہ قبل شوپیان میں ایک تصادم آرائی میں 3 نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تینوں خوفناک جنگجو تھے لیکن کچھ دن بعد پتہ چلا کہ وہ راجوری کے بے گناہ مزدور ہیں اور مبینہ طور پر ایک فرضی انکائونٹر میں مارے گئے تھے۔ڈی این اے کے نمونے اگرچہ ایک ماہ قبل حاصل کئے گئے تھے لیکن اب تحقیقات بلا وجہ تاخیر کی جارہی ہے۔انہوں نے وزیر دفاع سے کہا کہ وہ ایوان کو اس فرضی انکائونٹر کی تحقیقات کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کریں۔ مسعودی نے سوپور میں سوپور کے 24سالہ نوجوان عرفان احمد ڈار کی مبینہ حراستی ہلاکت پر کا بھی معاملہ اُٹھایا اور حکومت کو اس بارے میں بیان دینے کیلئے کہا۔ انہوں نے حکومت ہند کو یاد دہانی کرائی کہ ظلم و تشدد اور جبر و استبداد سے کوئی بھی نتائج سامنے نہیں آسکتے بلکہ اس سے جموں وکشمیر کے عوام اور ملک کے درمیان خلیج اور زیادہ بڑے گی۔دریں اثناء رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور حسنین مسعودی نے تحریک التوا بھی پیش کی اور شوپیان کے معاملے میں تحقیقات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے کالنگ اٹیکشن موشن دائر کیا گیا۔

Comments are closed.