نادر قرآنی نسخہ ایک لاکھ 37 ہزار پاؤنڈ میں فروخت؛ قرآن کا یہ تاریخی نسخہ کشمیری خوش نویسوں کے فن کا منہ بولتا ثبوت / منتظمین
سرینگر/16ستمبر: نوادارات اور تاریخی دستاویزات کی فروخت کے لیے مشہور نیلام گھر ‘سوتھ بیز’ کے تحت ہونے والی نیلامی میں ایک کشمیری خطاط کے ہاتھ سے لکھا گیا قرآن کا نسخہ ایک لاکھ 37 ہزار پانچ سو برطانوی پاؤنڈ میں فروخت ہو گیا ہے۔مذکورہ نسخے کو حال ہی میں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا تھا اور اسے کسی بھی قرآنی نسخے کی فروخت کی سب سے بڑی رقم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس نسخے کا خریدار کون ہے۔ہندستانی روپوں میں اس کی مالیت ایک کروڑ 29 لاکھ جب کہ پاکستانی روپوں میں دو کروڑ سے زائد ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نیلامی سے پہلے ‘سوتھ بیز’ نے اس قرانی نسخے کو اپنی ویب سائٹ پر متعارف کراتے ہوئے لکھا کہ قرآن کا یہ نادر نسخہ 19 ویں صدی میں تیار کیے گئے نفیس ترین مخطوطات میں سے ایک ہے۔ہندستان کے ایک اہم ادارے ‘نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج’ کشمیر کے ایک عہدے دار محمد سلیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قرآن کا یہ تاریخی نسخہ کشمیری خوش نویسوں کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اْن کے بقول اس تاریخی نسخے پر جلد ساز اور سرپرست کے نام بھی درج ہیں اور یہ ایک خوبصورت مخطوطہ ہے۔محمد سلیم نے کہا کہ اْنہیں خوشی ہے کہ اس نادر نمونے کو ‘سوتھ بیز’ جیسے عالمی شہرت یافتہ نیلام گھر نے مناسب قیمت پر نیلام کیا۔ اْن کے بقول جس نے بھی اسے خریدا ہے اسے اس کی قدر و قیمت کا بخوبی اندازہ تھا اور یہ یقیناً محفوظ ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔سوتھ بیز کے مطابق کشمیر میں لکھے گئے قرآنی نسخے غیر معمولی اور نایاب ہیں اور حال ہی میں نیلام کیا گیا نسخہ بھی ایک شاہکار ہے۔اس نسخے کی خطاطی محمد حسن نے کی اور محمد اسماعیل نیحاشیے میں تفسیر درج کی اور یہ 1831 میں تیار ہوا تھا۔یہ نسخہ 544 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں کالی، نیلی اور سرخ روشنائی استعمال کی گئی ہے۔آیات کو سنہری رنگ کے بنے دائروں اور دوسرے نشانات سے ایک دوسرے سے الگ کیا گیا ہے۔ اس قرآنی نسخے پر جلد ساز عبدالعزیز مغل کے دستخط ہیں۔
Comments are closed.