سوپور میں نوجوان کی پُراسرار ہلاکت ، لوگوں نے کیا احتجاج ؛لواحقین نے دیا ہراستی ہلاکت قرار، پولیس نے الزام کو مسترد کردیا

قصبہ میں انٹرنیٹ سہولیت عارضی طور پر معطل ، قصبہ میں تنائو کا ماحول برقرار

سرینگر/16ستمبر: سوپور میں ایک نوجوان کی پُراسرار ہلاکت کے بعد لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے پولیس پر الزام لگایا کہ نوجوان کو ہراست کے دوران مار ڈالا گیا ۔ ادھر پولیس نے اس سلسلے میں بتایا ہے کہ مہلوک نوجوان جنگجوئوں کیلئے اپر گراونڈ ورکر کے بطور کام کررہا تھا اور پولیس کی چھاپہ مار کارروائی کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور صبح اس کی نعش پتھر کی کھان کے قریب پائی گئی ۔ اس دوران عرفان احمد کے بھائی جاوید احمد نے بتایا کہ مجھے اور میرے بھائی عرفان کو پولیس نے 14ستمبر کو گرفتار کرلیا اور مجھے اگرچہ رہا کی گیا لیکن عرفان کو بند ہی رکھا گیا انہوںنے کہا کہ میرے بھائی کو کسٹیڈی میں مار دیا گیا جس کو عسکریت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا وہ بے گناہ ہے۔ دریں اثناء اس واقعے پیش نظر انتظامیہ نے سوپور میں انٹرنیٹ کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے ۔ ادھر پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سوپور میں ایک نوجوان کی پُراسرار ہلاکت کے بعد قصبہ میں شدید تنائو پھیل گیا ہے جبکہ نوجوان کے اہلخانہ نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ نوجوان کو دوران ہراست ہلاک کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگجوئوں کا اعانت کار تھا اور چھاپہ کے دوران اندھیرے کا فائدہ اُٹھاکر فرار ہوا تھا ۔ 23برس کا عرفان احمد ڈار ولد محمد اکبر ڈار ساکنہ اقبال کالونی سوپور کی پُر اسرار ہلاکت کی وجہ سے قصبہ میں تنائو پھیل گیاجس دوران لوگوں نے اس پُراسرار ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے پولیس پر الزام لگایا کہ عرفان کی ہلاکت ہراست میں ہوئی ہے ۔ اس دوران پولیس نے نوجوان کے اہلخانہ کے الزامات کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ مہلوک نوجوان جنگجوئوں کیلئے کام کرتا تھا جس کے قبضے سے دو چینی ساخت کے ہتھ گولے برآمد کئے گئے اور اس کے خلاف کیس زیر ایف آئی آر نمبر 257/2020 U/S 18 ULA (P) Act, 7/27کرلیا گیا تھا اور پوچھ تاچھ کے دوران کچھ انکشافات کئے تھے جس کے تناظر میں عرفان پولیس کی چھاپہ مار ٹیم کے ہمراہ تھا اور اندھیرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوا ۔ جس کے بعد اس کی نعش پتھر کی کھان کے پاس ملی جس کو پرائمری ہلیتھ سنٹر پہنچایا گیا جہاں سے اس کو پولیس کنٹرول روم منتقل کیا گیا پولیس نے اس سلسلے میں مزید چھان بین شروع کردی ہے ۔ تاہم عرفان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس کا بیان غلط ہے اور عرفان کو جنگجو جتلانے کی کوشش کررہی ہے کیوں کہ اس کو دوران ہراست ہلاک کیا گیا ہے ۔ اس دوران عرفان احمد کے بھائی جاوید احمد نے بتایا کہ مجھے اور میرے بھائی عرفان کو پولیس نے 14ستمبر کو گرفتار کرلیا اور مجھے اگرچہ رہا کی گیا لیکن عرفان کو بند ہی رکھا گیا انہوںنے کہا کہ میرے بھائی کو کسٹیڈی میں مار دیا گیا جس کو ملٹنسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا وہ بے گناہ ہے اور پیشے سے دکاندار ہے انہوںنے اس کی تحویل سے گرنیڈ برآمد کرنے کے پولیس کے دعوے کو بھی جھٹلاتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر بے بنیاد الزام ہے ۔ دریں اثناء اس واقعے کے تناظر میں انتظامیہ نے قصبہ میں انٹرنیٹ سہولیات کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے تاکہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیش نہ آئے ۔ ادھر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے اپنے ٹیٹر اکاونٹ پر اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

Comments are closed.