جموں کشمیر میں کورنا کیسوں میں اضافہ کے بیچ 21ستمبر سے اسکول کھولنے کا امکان

صرف 50فیصد طلبا اور ملازمین کو حاضر رہنے کی اجازت ہوگی،بچوں کیلئے والدین کی رضامندی لازمی

سرینگر/15ستمبر/: کورنا وائرس کے کیسوں میںہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ کے بیچ محکمہ اسکولی تعلیم نے جموں کشمیر میں 21ستمبر سے اسکول کھولنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف پچاس فیصد طلبا اور ملازمین کو اسکول میں حاضر رہنے کی اجازت ہوگی۔ سی این آئی کے مطابق بھارت بھر کے ساتھ ساتھ جمو ں کشمیر میں کورنا وائرس کے کیسوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ہے اور گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل ہزار سے زیادہ مثبت معاملات سامنے آتے ہیں ، کورنا کیسوں میں اضافہ کے بیچ محکمہ اسکولی تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ جموں کشمیر میں 21ستمبر سے اسکولوں میں دوبارہ درس وتدریس کا عمل شروع کیا جائے گا ۔ قابل ذکر ہے کہ ان لاک چار میں مرکزی سرکار نے گائیڈ لائیز میں واضح کر دیا تھا کہ مکمل سماجی دوری اور ایس او پیز پر عملدر آمد کے چلتے اسکولوںکو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور اس پر عمل کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے جموں کشمیر میں اسکول دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے ۔ محکمہ اسکولی تعلیم کے ایک سنیئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر ماہ کی 21 تاریخ سے وادی کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے تاہم صرف پچاس فیصد طلبا اور ملازمین کو اسکول میں حاضر رہنے کی اجازت ہوگی۔جبکہ ساتھ ہی واضح کر دیا گیا کہ والدین کی رضامندی کے بعد ہی بچوں کو اسکول میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی ۔ ان کا مزید تھا کہ "ہم سب جانتے ہیں کہ وادی کے اسکول کافی عرصے سے بند ہیں جس وجہ سے کلاس رومز کے حالات ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے ہم نے شروعات میں تمام احتیاطی تدابیر عملاتے ہوئے اداروں کے سربراہوں کو ہدایت بھی دی ہے اور یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اساتذہ کی حاضری کے تعلق سے فیصلہ لے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آٹھویں جماعت کے طلباء ہر روز سکول آئیں گے تاہم صرف پچاس فیصد اساتذہ اسکول میں موجود ہوں گے۔ نویں سے بارہویں جماعت کے بچے رضاکارانہ بنیاد پر اسکول آ سکتے ہیں لیکن صرف پچاس فیصد حاضری کی ہی اجازت ہے۔ اداروں کے سربراہ اس تعلق سے حق میں فیصلہ لیں گے لیکن بچوں کے والدین کی جانب سے اجازت نامہ ضروری ہے۔ آن لائن کلاسز بدستور جاری رہیں گی۔

Comments are closed.