سرکاری زبان اردو کے ساتھ دیگر زبانوں کو شامل کرنا باعث تشویش

اردو زبان کی سرکاری وآئینی حیثیت کا ہر محاذ پر دفاع کرنا اجتماعی ذمہ داری /جموں کشمیراردو کونسل

سرینگر /10ستمبر / کے پی ایس : اردو زبان کی سرکاری اور آئینی حیثیت کا ہر محاز پر دفاع کیا جائے گاتمام مکتبہ ہائے فکر سے مل کر ایک عوامی تحریک شروع کی جائے گی ان باتوں کا اظہار جموں کشمیر اردو کونسل کے ایک اجلاس میں کیا گیا ۔ جموں کشمیر اردو کونسل کے ترجمان کے موصولہ بیان کے مطابق کونسل کا ایک ہنگا می اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا جس میں کونسل کے ممبران کے علاوہ سول سوسا یٹی کے سرکردہ ممبران بھی شامل ہوئے اجلاس میں مرکزی کابینہ کی جانب سے سرکاری زبانوں کے حوالے سے لئے گئے فیصلے پر غور خوض کیا گیا۔ اجلاس میں مقررین نے یک زبان ہو کر اس بات کا اعادہ کیا کہ اردو زبان کی آئینی اور سرکاری حیثیت بر قرار رکھنے کے لئے ایک ہمہ جہت جدوجہد نا گزیر ہے اور اس جدوجہد میں سماج کے سبھی طبقوں کو شامل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔اجلاس میںبہ اتفاق رائے یہ فیصلہ لیا گیا کہ آنے والے دنوں میں عام لوگوں کے علاوہ سماج کے مختلف طبقوں بشمول صحافتی و تجارتی انجمنوں اورسرکاری آفیسران کے ساتھ رابطہ کرکے انہیں اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ چنددہائیوں سے اردو زبان کے ساتھ جوسوتیلی ماںکا سلوک روا رکھا گیاوہ بدستور جاری ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا چند گنے چنے دفتروں کو چھوڑ کرنناوے فیصد سرکاری کام کاج انگریزی زبان میں انجام دیا جاتا ہے۔اس صورتحال میں سرکار کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کی اُردو زبان کوکھویا ہوا مقام واپس دلانے کی کوشش کرنی تھی برعکس اس کے اردو زبان کی اہمیتمزید کم کردی گئی۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ممکن ہے کہ سرکاری یا غیر سرکاری دفتروں کا کام کاج پانچ زبانوں میںچلایا جاسکے؟ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میںڈوگری ،کشمیری اور ہندی زبانوںکے جاننے والے ماہرین ہر دفتر میں کہاں سے ملیں گے۔مقررین کے بقول یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر عمل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے اس طرح کے فیصلے سے یہاں کسی زبان کا بھلا نہیں ہوگابلکہ ساری زبانیں بے اثر ہی رہیں گی۔اجلاس میں نئی قومی تعلیمی پالسی میں اردو زبان کو نظر انداز کرنے پر بھی تشویش اورحیرانی کا اظہار کیا گیا۔اس موقعہ پر جملہ شرکاء نے سرکار سے مخاطب ہوکرکہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے ۔تاکہ اردوزبان کی اہمیت وافادتیت اور اس کی منفردشناخت متاثر نہ ہوجائے ۔بیان مزید کہاگیا کہ اجلاس میں ایک اہم فٰیصلے لیاگیا کہ اردو کونسل کی طرف سے منعقدہ مضمون نویسی کے مقابلے میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو انعامات اور اسنادسے نوازنے کا اہتمام کیا جائے گا۔اس ضمن میںستمبر کے آخری ہفتے میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی جس میں مقابلے میں شامل سبھی طلباء کو مدعو کیا جائے گا۔اجلاس میں سول سوسائٹی کے جن ممبران نے شرکت کی ان میں سابق انفارمیشن کمشنر جی آر صوفی، سابق ناظم تعلیمات محمد رفیع،جسٹس نذیر فدا،پرائویٹ سکول ایسوسیشن کے چیرمین جی این وار،نگینہ انٹرنیشنل کے مدیر اعلیٰ وحشی سعید،بشیر احمد ڈانگرکے علاوہ اردو کونسل کے نائب صدر ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی،جنرل سیکریٹری جاوید ماٹجی،شہباز ہاکباری،جاوید کرمانی،صوفی علی محمد،شبیر ماٹجی،نذیرابن شہباز،روحی سلطانہ،عرفانہ امین بلال فرقانی وغیرہ قابل ذکر ہیں

Comments are closed.