سرینگر /8ستمبر / کے پی ایس : کوروناوائرس کے بیچ سمیناروں اور تقریبات منعقد کرنے کا سلسلہ مجموعی طور معدوم ہوا ہیتاہم اس دور پُرآشوب میں وادی کی ادبی انجمنوں نے ادبی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس کو بروئے لاکر شعراء اور ادباء کو پلیٹ فارم مہیا کرکے آن لائن پروگرام شروع کئے ہیں ۔اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے شمالی کشمیر کی نامور ادبی تنظیم بزم شعروادب سنگرامہ نے مختلف موضوعات پر محفل مشاعرے اور محفلیں آن لائن کے ذریعے منعقد کئے اور ان ان محفلوں میںوادی اور باہر کی ریاستوں کے نامور ادیبوں اور شاعروں نے حصہ لے کر اپنی تخلیقات کو منظر پر عام لایا ۔موصولہ تفصیلات کے مطابق مورخہ7ستمبر2020 کو بزم شعر و ادب سنگرامہ کے وٹس ایپ آفیشل پیئج پر”قداوار” کے عنوان سے ایک آن لآئن انٹریکشن انٹروو پروگرام کا انعقاد ہوا۔دوسری قسط کے مہمان کشمیری ادب کے معروف شاعر،نقاد،ادیب اْستاد پروفیسر شاد رمضان تھے۔ پروگرام میںکلیدی خطبہ صدر بزم شعر و ادب سنگرامہ یوسف صمیم نے پیش کیا۔انہوں نے سرکار کے اس فیصلے کی سراہنا کیجس میں کشمیری زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ بزم شعر و ادب سنگرامہ اور لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی۔اس موقعہ پر پروفیسر شاد رمضان نے سامعین کو اپنی زندگی اور ادبی سفر کے مختلف گوشوں سے رْوشناس کروایا۔بعد ازاں ایک سوال جواب پر مبنی ایک سیشن ہوا۔جس میں سامعین کے سوالات کا مہمان موصوف نے بہترین انداز میں جواب دئے۔شْرکاء میں مشہور اْدباء و دانشور حضرات شاملتھے جن میں فیاض تلگامی ، شہناز رشید ، ڈاکٹر نظیرآزاد، شہباز ہاکباری ، رحیم رہبر ، اسماعیل آشنا،بشیر چراغ ،مقبول شہدا ، عادل اسماعیل ، ممتاز گوپبلی،ریاض الحسن ،منصور منتظر ، ایف آزاد دلنوی اور زاہداحمد قابل ذکر ہیں۔پروگرام کی نظامت معروف شاعر نثار اعظم نے کی۔آخرپربزم کے جنرل سیکرٹری نذیر نبی نے تحریک شکرانہ پیش کیا۔اس پروگرام کا میڈیا پاٹنر تعمیل ارشاد تھا۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.