شیر کشمیر کا 38 واں یوم وصال عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا

ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس زعماء نے مزار پر حاضری دی

سرینگر/ 8 ستمبر: بابائے قوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے38؍ویں یوم وصال پر مرحوم کو خراج عقیدت ادا کرنے کی غرض سے مزار قائد واقع نسیم باغ پر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے مزار قائد پر گلباری اور فاتحہ خوانی کی۔ اُنہوں نے مادر مہربان بیگم اکبر جہاں کے مرقد پر بھی گلباری اور فاتحہ خوانی کی۔ اجتماعی فاتحہ خوانی میں پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران محمد شفیع اوڑی، چودھری محمد رمضان، مبارک گل، میر سیف اللہ، محمد اکبر لون، حسنین مسعودی، شریف الدی شارق، نذیر احمد خان گریزی، شمی اوبرائے، شمیمہ فردوس، سکینہ ایتو، عرفان احمد شاہ، محمد سعید آخون، شیخ اشفاق جبار، تنویر صادق، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، پیر آفاق احمد، الطاف احمد کلو، قیصر جمشید لون، جاوید احمد ڈار، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، سلمان علی ساگر، مشتاق گورو، ڈاکٹر سجاد شفیع،سید توقیر، صبیہ قادری کے علاوہ کئی سرکردہ لیڈران نے شرکت کی۔ کووڈ19کے پیش نظر تمام رہنما خطوط اور احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھا گیا تھا اور تقریب انتہائی مختصر رکھی گئی تھی۔ اس سے قبل صبح صادق ہی شیر کشمیر ریڈنگ روم نسیم باغ میں حسب قدیم قرآن خوانی کی مجلس بھی آراستہ ہوئی۔اس دوران پارٹی لیڈران نے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے دور قیادت کو فکر مندانہ اور مستقبل کے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کیلئے حکیمانہ قرار دیا ہے۔انہوں نے اِس تاریخ ساز شخصیت کے تئیں عقیدت واحترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ۳۸؍ سال قبل ۸؍ستمبر کو شیر کشمیر کے جلوس جنازہ میں روتے بلکتے لاکھوں پیروجوان اور مرد وزن کے اجتماعی اضطراب ، آنسوئوں کی روانی اور غم واندوہ کا سماں اِس حقیقت کا باعث بنا ہوا ہے ،کہ کشمیر کو چھوڑ کر دنیا بھر میں کسی قوم کو اتنے بڑے شفیق ، رفیق قاید کی رہنمائی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ شیخ صاحب عوام مقبول، ہر دلعزیز اور نڈر وبے باک رہنما تھے، جنہوں نے اپنے وطن سے بھرپور محبت تھی اور وطن دار بھی اُن کے اشاروں پر جان نثاری کیلئے ہمہ تن بیقرار رہتے تھے۔ وہ ظالم کے بجائے ظلم کے پورے نظام کے خلاف برسرپیکار تھے۔ اور ان کی جدوجہد کا دائرہ تنگ وتاریک نہیں تھا۔ انہوں نے موروثی حکمرانی کے خلاف صف آرا ہوکر نہ صرف وراثتی راج کو اکھاڑ پھینکا، بلکہ شخصی راج کی صعوبتوں اور ظالمانہ نظام کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔تقریب میں دیگر عہدیداروں کے علاوہ سلام الدین بجاڑ، غلام نبی وانی تیلبلی، احسان پردیسی، یونس گُل،سلیم آخون، نثار احمد نثار ، ڈاکٹر سعید بھی موجود تھے۔ادھر صوبہ کشمیر میں تمام ضلع صدور مقامات پر خراج عقیدت کی تقاریب کا انعقاد ہوا۔ ٹائون ہال کولگام میں منعقدہ تقریب کی صدارت ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی نے کی جبکہ اس موقعے پر پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار ،صفدر علی خان اور ایڈوکیٹ عبدالرحمن کے علاوہ دیگر عہدیداران اور کارکنان نے بھی شرکت کی۔ مجاہد منزل پلوامہ میں ضلع صدر غلام محی الدین میر ، اننت ناگ میں نائب صدرِ ضلع ایڈوکیٹ ریاض احمد خان، شوپیان میں ضلع صدر شوکت حسین گنائی، مجاہد منزل بڈگام میں وسطی زون صدر علی محمد ڈار، حاجی عبدالاحد ڈار اور منظور احمد وانی، بارہمولہ میں ضلع صدر جاوید احمد ڈار، غلام حسن راہی، بانڈی پورہ میں میر غلام رسول ناز کی صدارت میں خراج عقیدت کی تقریب منعقد ہوئی جبکہ کپوارہ میں منعقدہ تقریب میں پارٹی ضلع کمیٹی اور بلاک صدور نے شرکت کی۔ ان تقریب میں پارٹی عہدیداران اور کارکنوں نے شرکت کی اور شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو سنہری الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور اُن کی زندگی کو مستقبل کے چیلنجوں میں سروخرو ہونے کیلئے مشعل راہ قرار دیا۔ادھر جموں میں شیر کشمیر بھون میں بھی ایک پُر وقار تقریب پر مرحوم قائد کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور مرکزی و صوبائی لیڈران نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ،کہ مرحوم شیخ صاحب فرقہ دارانہ ہم آہنگی اور تینوں خطوں کے عظیم ورثہ یعنی بھائی چارہ اور ہندو ، مسلم ، سکھ اتحاد کے علمبردار تھے ۔ مرحوم قائد نے ہمیشہ تشدد سے نفرت کی اور زندگی بھر عدم تشدد کے حامی رہے۔ بیرونی ممالک کے علاوہ سرحد پار بھی مرحوم شیر کشمیرشیخ محمد عبداللہ کی تاریخ ساز خدمات پر تقاریبات کا انعقاد ہوا اور محسن کشمیر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کرگل، لداخ اور خطہ چناب و پیرپنچال میں بھی اس سلسلے میں تقریبات کا انعقاد ہوا۔

Comments are closed.