تباہ کن سیلاب کے چھ سال مکمل، امداد کیلئے وادی کے شمال جنوب میں لوگ نالاں

فراہم کی گئی امداد زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ،متاثرین کا جموں کشمیر انتظامیہ پر الزام

سرینگر/07ستمبر:ماہ ستمبر 2014 میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد چھ سال مکمل ہونے کے باوجود وادی کے شمال و جنوب میں درجنوں سیلاب زدگان علاقوں میں متاثرہ لوگوں نے حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی امداد کو زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ مال کے کئی اہلکاروں نے منظور نظر اور سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والوں کو بڑے پیمانے پر سرکاری امداد فراہم کی ہے جبکہ جن کنبوں کا سب کچھ لٹ چکا ہے انہیں12سو سے لیکر 12ہزار روپیہ تک کی چکیں ہاتھوں میں تھمادی گئی ہیں اور اسطرح سرکاری امداد میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں عمل میں لائی گئی ہیں ۔امداد میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے خلاف بڑی تعداد میں لوگوں نے زبردست غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔سی این آئی کے مطابق سال 2014 کے ماہ ستمبر میں آئے ٹنل کے آر پار تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی وہی شمالی کشمیر کے کافی علاقے بھی سیلاب کی زد میں آگئے اور بڑے پیمانے پر زمین وزراعت کو کافی نقصان پہنچ گیا ۔نمائندے کے مطابق اگرچہ اس وقت سرکار کی جانب سے سیلاب زدگان کو مدد کرنے کے بڑے بڑے دعوے کئے گئے لیکن سیلاب سے متاثرہ کنبوں کو آٹے میں نمک کے برابر امداد فراہم کرنے کے خلاف لوگوں میں زبردست غم وغصہ کی لہر پائی جارہی ہے ۔نمائندے کے مطابق لوگوں نے الزام لگایا کہ محکمہ مال کی جانب سے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں عمل میں لائی گئی ہیں جس کے نتیجے میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نشیبی علاقوں میں جن رہائشی مکانوں کو سیلاب سے نقصان پہنچا ہے کی اسازسرنو تعمیر کیلئے عبوری طور پر 75ہززار روپیہ اور جزوی نقصان کیلئے35 ہزار روپیہ امداد فراہم کرنے کی تاکید کی ہے تاہم وادی کے شمال و جنوب کے درجنوں علاقے کے رہائشی مکان سیلاب کے زد میں آکر زمین بوس ہوگئے ہیں انہیں 12ہزار روپیہ اور جن رہائشی مکانوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں انہیں 12سو سے لے کر تین ہزار تک کی چکیں فراہم کی ہیں جو ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔لوگوں نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ بڑی نا انصافی ہورہی ہے ،بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے ان کے مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔

Comments are closed.