سورسیارچاڈور ہ کے 30سالہ نوجوان کی ہلاکت ، لواحقین کو پریس کالونی میں احتجاج
سجاد کو منصوبہ بند سازش کے تحت قتل کر دیا گیا ، ملوثین کے خلاف کڑی کارورائی کرنے کا کیا مطالبہ
سرینگر/07ستمبر: سورسیارچاڈور ہ بڈگا م کے خاندان نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کے قتل میںملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارورائی عمل میں لائی جائے ۔ سی این آئی کے مطابق سورسیار بڈگام کا ایک نوجوان سجاد احمد جو کہ پیشہ سے ایک ڈرائیور بتایا جاتا ہے پانچ اگست کو کرکٹ میچ کھیلنے کیلئے گھر سے نکلا تاہم بعد میں واپسی پر رات کے دوران اس کی اچانک موت واقع ہوئی ۔ نوجوان کی موت کے خلاف اہل خانہ نے سوموار کو پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزا م عائد کر دیا کہ ان کے بیٹے کی قدرتی موت واقع نہیں ہوئی بلکہ اس کو منصوبہ بند سازش کے تحت قتل کر دیا گیا ۔ پریس کالونی سرینگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سجاد احمد ڈار کی بیوی نے بتایا کہ پانچ اگست کو اس کو فون آیا جس کے بعد انہوں نے گھر میں بولا کہ انہیں کرکٹ کھیلنے جانا ہے ، انہوں نے بتایا کہ دن بھر اسکو فون کال کرکے وہاں سے کسی نے فون کا جواب نہیں دیا جبکہ شام دیر گئے ایک لڑکا ان کو بے ہوشی کی حالت میں گھر پہنچایا گیا جس کے بعد اہل خانہ نے ڈاکٹروں کو طلب کرکے جنہوں نے طبی معائینہ کرکے بتایا کہ وہ بے ہوش ہے تاہم صبح تک اسی حالت میں رہنے کے بعد جب انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا تو وہاں ڈاکٹروں نے بولا کہ سجاد کو انجکشن دی گئی ہے جبکہ اس کے جسم پر نشان بھی موجود تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ انہیں شک ہوا ہے کہ یہ قدرتی موت نہیں بلکہ ایک قتل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پولیس میں بھی شکایت درج کرائی تاہم انہوں نے آج تک کوئی کارورائی نہیں کی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائے اور ملوثین کو کڑی سے کڑی سزا دیکر انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے ۔
Comments are closed.