پرائیویٹ اسکولوں کی پالسی میں تبدیلی ،مشینری اسکول من مانیوں پر گامزن ؛داخلہ کے نام پر کیا ہورہا ہے ؟سرکار توجہ مرکوز کریں

سرینگر /7ستمبر /کے پی ایس : کمشنر سیکریٹری ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر سامون کے پرائیویٹ اسکولوں کے تئیں مثبت رویہ کے بعد جموں وکشمیر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے بھی اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ایک سرکیولر جاری کیا جس میں اسکول منتظمین کو ایڈمیشن فیس نہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے تاہم وادی کشمیر میں چند اہم بڑے مشینری اسکولوں بشمول بسکو گو انڈیکا،برلا ،سینٹ جوزف ،ڈون انٹرنیشنل ،میلن سن اور ڈی پی ایس کی من مانیاں عروج پر ہونے کے باوجود بھی انتظامیہ کی خاموشی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے ۔پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کی جانب سے ایڈمیشن فیس نہ لینے کے حوالے سے سرکیولر جاری ہونے کے بعد بڑے اسکولوں کے منتظمین میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ان کاکہنا ہے کہ ان کو اسکولوں کے اسفاسٹریکچر اور معیارکے حوالے سے اخراجات دیگر اسکولوں سے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور آئے روز اخراجات بڑھتے ہی جاتے ہیں تاہم ایسوسی ایشن کا حصہ ہونے کی حیثیت سے جاری کردہ سرکیولر پر عمل کرنے پر مجبور ہیں ۔اس ضمن میں بچوں کے والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ وہ لاکھوں یا ہزاروں روپے کے ایڈمیشن فیس کی لٹکتی ہوئی تلوار سے فی الحال نجات پاگئے اور اس سرکیولر سے کمشنر سیکریٹری موصوف کی رائے کی بھی تائید ہوئی ۔ادھر کشمیر پریس سروس کو شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں کہ وادی کے بڑے مشینری اسکول بغیر رسید کے لاکھوں روپے والدین سے حاصل کرکے ان کے بچوں کا ایڈمیشن کرتے ہیں ۔اس غیر قانونی حرکت سے مختلف سوالات پیداہوتے ہیں ۔محنت سے کمائے ہوئے پیسے کو کوئی دریا برد کرنے کی کوشش نہیں کرے گا بلکہ اس کو کسی کام پر ضرورلگا ئے لیکن بغیر رسید موٹی رقومات دینے والے افراد کا پیسہ کہا سے آیا ہوتا ہے جن لوگوں کے پاس پیسوں کا حساب وکتاب نہیں ہوگا ان کا پیسہ ضرور حرام کی کمائی سے ہی حاصل ۔محنت کا پیسہ کبھی بھی کسی ادارے یاشخص کو بغیر رسید فراہم نہیں کرسکتا ہے ۔یہ قاعدہ قانون ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد ،تعلیمی ادارے یا کسی مذہبی ادارے کو نیاز ونذرانہ ،صدقات وزکواۃ یا ڈونیشن دیتا ہے تو وہ ادارے حسب رقم رسید فراہم کرتے ہیں اگر کوئی یسا ادارہ رسید دینے میں لیت ولعل سے کام لیتا ہے تو اس کے منتظمین مشتبہ ہوجاتے ہیں لیکن نہ جانے یہ افراد مشینری اسکولوں میں بغیر رسید کے اپنے بچوں کے ایڈمیشن پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ان اسکولوں کی من مانیوں کی طرف سرکارکی نظریں بالکل مرکوز ہیں لیکن اسکول منتظمین کی اجارہ داری اور سرکاری کارندوں وبیروکیٹوں کی مجبوری کے باعث ان کی من مانیوں کو نظر انداز کیاجارہا ہے ۔ جس قد ر یہ رجحان آگے بڑھتا ہے اس سے تعلیمی ماحول ہی نہیں بلکہ سماج پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ تعلیم بچوں کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ حق وباطل ،سچ وجھوٹ ،نفرت ومحبت ،حرام وحلال اور حق و رشوت میں تمیز کرنا سیکھ لیں اور اس پر سب مذہب وملت متفق ہیں اور ہر ایک کے پاس تعلیم کا بنیادی مقصد یہی ہے لیکن جو لوگ مشینری اسکولوں میں بچوں کا داخلہ سفارش ومنت سماجت سے بغیر رسید کے بڑی رقمیں دیتے ہیں ۔ان افراد کا محاسبہ کرانا سرکار کی ذمہ داری ہے کہ انہوں نے یہ آسمان سے توڑے ہوئے تارے کہاں سے اور کس طرح حاصل ہوئے کئے؟جس طرح این آئی اے نے مختلف لوگوں کو اپنی کٹھہیری میں کھڑا کرکے ان سے جمع کی ہوئی دولت وجائیداد محاسبہ کیا گیا کیوں نہ اسی ان لوگوں کو کٹہری میں کھڑا کیا جائے جو اس طر ح غیر قانونی طور پیسے بے بنیاد مفادات کے خاطر صرف کرتے ہیں ۔اگر ان کا محاسبہ کیا جائے تو ضرورہماری نئی پود کا داخلہ اسکولوں میں جھوٹ پر مبنی نہ ہوجائے اور ان کی بنیاد جھوٹ اور ناانصافی پر نہ بنائی جاسکے تب ہمارے سماج کی بہتر تعمیر ہوسکے گی ۔کیونکہ ہمارے سماج کی تعمیر نئی نسل کے ہاتھوں میں ہے اگر ان کی بنیاد جھوٹ پر تعمیر ہوئی ہوتو حق پرسماج کی تعمیر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔

Comments are closed.