عصر حاضر میں انٹرنیٹ معمولات زندگی کیلئے اہم ترین وسیلہ ؛جموں وکشمیرمیں 2 جی سروس نامعقول ،دفتری کام ،تجارتی ،کاروباری وتعلیمی سرگرمیاں بُری طرح متاثر
سرینگر/4ستمبر /کے پی ایس : موجودہ دور میں انٹرنیٹ معمولات زندگی کیلئے اہم ترین وسیلہ بن گیا ہے ۔کیونکہ زندگی کے ہر شعبے میں انٹر نیٹ سے ہی کام چلایا جارہا ہے ۔آجکل شاید ہی کوئی ایسا ادارہ یا دفتر ہو جہاں انٹرنیٹ کے بغیر ہی دفتری کام انجام دیا جارہا ہو ۔گذشتہ چند برسوں سے سرکاری وغیر سرکاری دفاتر کے علاوہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں بھی انٹرنیٹ پر ہی منحصر ہوئی ہیں ۔صرف ایک دہائی قبل یہاں کے تاجروں یاصنعتکاروں کے پاس بہی کھاتے ہوا کرتے تھے اور وہ حساب وکتاب اسی پر قلمبند کرتے تھے اور خریدار کو خرید وفروخت پرکاغذ کی صورت میں رقم کی رسید دیتے تھے ۔جبکہ سرکاری وغیر سرکاری دفتروں اور اداروں میں بھی مختلف قسم کے کاغذی دستاویزات سے ہی کام چلاتے تھے ۔لیکن جدید ٹیکنالوجی نے نیا انقلاب لایا اور کاغذ کے بجائے کمپوٹر نے جگہ لی ۔قلمی تحریر کے بجائے کمپوٹر ٹائپنگ عام ہونے لگی ۔اسی طرح سے بالمشافہ درس و تدریس کے بجائے انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم وتربیت کا آغا زہوااور انٹرنیٹ سے دفتری ،تجارتی اور تعلیمی رجحان ہی تبدیل ہوا اورملازمین ،افسران ،مدرسین ،طلبہ اور تاجر نئی Trend روش اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے اور اس برقی ٹیکنالوجی سے دفتروں اور تجارتی اداروں میں نیارجحان پیدا ہوا اور اس جدید ماحول میں جموں وکشمیر بھی اپنی ایک شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوا اور بیشتر کام انٹرنیٹ کے ذریعے ہی انجام دے جاتے تھے کیونکہ عصر حاضر اسی برقی رفتار کا تقاضا کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں 5اگست2019کو جموں وکشمیر ی کی خصوصی پوزیشن اوردفعہ 370کی منسوخی کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سہولیات پر پابندی عائد کی گئی ۔اس کے چند ماہ بعد انٹرنیٹ کی 2جی سروس کو چالو کیا گیا تاایں دم جموں وکشمیر کے بیشترعلاقوں میں انٹرنیٹ کی 2جی سروس ہی دستیاب ہے ۔اگر چہ اس حوالے سے مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی انجمنوں اور اشخاص نے عدالت اعظمیٰ میں بھی عرضی دائر کئے تاہم کوئی مثبت نتیجے برآمد نہیں ہوسکا ۔جس کی وجہ سے جموں وکشمیر کے عوام کو سخت پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کو آئے روز فون کالز موصول ہورہی ہیں کہ انٹرنیٹ کی 2جی سروس سے بہتر انداز میں کام نہیں چل رہا ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت سے جہاں ضروری دستاویزات تیار کرنے میں چند گھنٹے کا انتظاکرنا پڑتا تھا وہیں کئی دنوں تک منتظر رہنے کے بعد بھی کاغذ ہاتھ میں آنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی ہے جبکہ کاروباراور تجارت کافی متاثر ہے اور زیر تعلیم بچوں کا مستقبل بھی انٹرنیٹ کی معقول دستیابی کی وجہ سے تاریک ہونے جارہا ہے ۔کے پی ایس کو زیر تعلیم بچوں کے والد راجا طاریق احمد عادل ساکنہ بژھ پورہ صورہ سرینگر نے بتایا کہ بحیثیت باپ اس نے ان مہینوں میں یہ محسوس کیا کہ انٹرنیٹ کی 2جی سروس بچوں کی ضرورت کے اعتبار سے ناکافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ منسوخی 370سے بچے گھروں میں محصور ہیں اور لاک ڈاون کے دوران بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوئیں ۔تاہم محکمہ تعلیم نے بچوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے کیلئے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جو ان نامساعد حالات میں خوش آئند تھا ۔انہوں نے کہا کہ غریب والدین نے این ڈرائیڈ فون خرید کربچوں کوسہولیات مہیا کی لیکن 2جی سروس سے بچے آن لائن کلاسز مناسب طریقے سے نہیں لے سکے ۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ نے بھی اپنے آپ کو وقف رکھا تھا لیکن انٹرنیٹ کی معقول سروس دستیاب نہ ہونے سے آن لائن کلاسز فضول مشق ثابت ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ زیر تعلیم بچے اعلیٰ ڈگریوںیا مختلف کورسز کیلئے آن لائن فارم جمع کرتے تھے لیکن انٹرنیٹ کی دھیمی سروس کی وجہ سے بیشتر بچے اس میں ناکام رہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے بیروکیٹوں کے پاس وائی فائی دستیاب ہے جو انٹرنیٹ سروس مکی نامعقولیت محسوس نہیں کرتے ہیں اور اسی لئے سرکار نے بھی چپ سادھ لی ہوئی ہے ۔دریں اثناء لائٹ ویٹ ٹریڈنگ کمپنی کے منیجر تنویر احمد ساکنہ تارت پورہ ہندوارہ نے کے پی ایس کو بتایا کہ انٹرنیٹ کی 2جی سروس ہی دستیاب رہنے سے ان کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوا ۔انہوں نے کہا کہ وہ لاک ڈاون یا ہڑتال وکرفیو کے دوران آن لائن شاپنگ کرکے اپنے کاروبار کو فروغ دیتے تھے اس کے علاوہ باہر کی کمپنیوں سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے ۔درآمدی اور برآمدی مال کیلئے اب انہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعہ کردئے جاتے تھے جس سے ان کا وقت بھی اور پیسہ بھی بچتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی جہاں کروڑوں روپے کا کاروبار کرتی تھی وہیں انٹرنیٹ کی معقول دستیابی نہ ہونے کی صورت میں لاکھوں روپے کا کاروبار نہیں ہو پارہا ہے جس کے نتیجے ایک تو کمپنی کو خسارہ کا سامنا ہے اور کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کیونکہ کاروباری خسارہ کی وجہ سے ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی جس سے ان کی معمولات زندگی انتہائی متاثر ہوئی ۔
Comments are closed.