ہند چین کشیدگی کے بیچ فوجی سربراہ کے دورے لداخ کا دوسرا دن ، اعلیٰ افسران سے ملاقی

کہا حقیقی کنٹرول لائن پر صورتحال کشیدہ تاہم فوج کسی بھی چلینج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے

بھارت نیوکلیئر سے لیکر سب کنوینشنل خطرات سے دوچار،ہماری فوج ہر مشکل سے نمٹنے کیلئے بخوبی تیار / رائوت

سرینگر/04ستمبر: گزشتہ تین ماہ سے ہند چین کے مابین کشیدگی صورتحال دیکھنے کو ملی ہے کی بات کرتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے نے کہا کہ حقیقی کنٹرول لائن پرصورتحال کشیدہ ضرور ہے تاہم فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ادھر چیف آف آرمی ڈیفنس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہماری فوج چین کی جانب سے کی جا رہی کارروائی کا بہتر طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق فوجی سربراہ جنرل مکند نروانے جو دو روز ہ دورے پر لداخ میں تھے نے جمعہ کو سیکورٹی صورتحال کا جائیزہ لیا جس دوران انہوں نے حقیقی کنٹرول لائن پر ہونے والی پر سرگرمی کے بارے میں تفصیلای جانکاری حاصل کر لی ۔ اس موقعہ پر انہوں نے لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین مہینے سے لداخ میں چین اور ہند کے درمیان صورتحال لگاتار کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ ہم ٹیم کے ساتھ ملٹری اور سفارتی سطح پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جتنے بھی اختلاف ہیں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔ میں آپ سب کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں بدلے گا اور ہم اپنے ملک کے مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے ہی بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی ترجیح یہ ہے کہ ملک کی سرحدیں محفوظ رہیں اور ملک کی اندرونی سلامتی بھی ہر قیمت پر برقرار رہے۔ا۔انہوں نے کہاکہ سرحدوں سے ملک کی سیکورٹی کو لگاتار خطرے پیدا کئے جارہے ہیں لیکن ان خطروں سے نمٹنے کیلئے موثر اور منظم اقدامات کئے جائیں گے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ ا س سے قبل چیف آف آرمی ڈیفنس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہماری فوج چین کی جانب سے کی جا رہی کارروائی کا بہتر طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ اس وقت بھارت نیوکلیئر سے لے کر سب کنوینشنل خطرات سے گھرا ہوا ہے لیکن ہماری افواج ہر مشکل سے نمٹنے کے لیے بخوبی تیار ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ مہینے کی 29 اور 30 تاریخ کی رات کے درمیان لداخ میں واقع حقیقی لائن آف کنٹرول میں ایک بار پھر چینی اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

Comments are closed.