راجوری میں ایل او سی پر گولہ باری، ایک فوجی افسر ہلاک

گریز میں آر پار شلنگ سے متعدد ڈھانچوں کو پہنچا نقصان

سرینگر /02ستمبر: راجوری میں بدھ کے روز ہندوپاک افواج کے مابین گولہ باری کے نتیجے میں فوج کا ایک افسر ہلاک ہوا ہے جبکہ شمالی کشمیر کے گریز سرحدی سیکٹر میں ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین شدید گولہ باری ہوئی جس میں متعدد ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے تاہم گولہ باری میں کسی شہری یا فوجی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ ادھر آر پار شدید گولہ باری کی وجہ سے سرحدی علاقوں رہنے والے لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی کنبوں نے اپنے آشیانے چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ہندوستان اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بیچ ہندوپاک سرحدیں بھی گرم ہوچکی ہے اور گزشتہ روز جموں کشمیر کے مختلف سرحدی علاقوں میں ہندوپاک افواج کے مابین شدید گولہ باری ہوئی ہے ۔ تازہ واقعے میں آج جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں ایک فوجی افسر ہلاک ہوا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ راجوری کے کیری سیکٹر میں ایل او سی پر بدھ کی صبح پاکستانی فوج نے بلا اشتعال بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری شروع کر دی جس کے نتیجے میں وہاں ڈیوٹی پر تعینات ایک جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او) شدید زخمی ہوا۔انہوں نے کہا کہ زخمی جے سی او بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔ادھر شمالی کشمیر کے گریز سیکٹر میں آر پار شدید گولہ باری ہوئی جس سے آس پاس کے علاقے دہل اُٹھے ۔ ذرائع کے مطابق گریز کے بگٹور سیکٹر میں شدید گولہ باری ہوئی جس میں متعدد ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ دفاعی ذرائع نے پاکستانی فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بگٹور سیکٹر میں آج صبح بلا اشتعال مور ٹار داغے جن میں سے کئی مورٹار رہائشی بستیوں میںجاگرے جس کی وجہ سے 4رہائشی مکانات، ایک گورنمنٹ ہائی سکول اور ایک مدرسہ کو نقصان پہنچا ہے تاہم شلنگ میں کسی شہری کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوج نے پاک فوج کی گولہ باری کا بھر پور جواب دیتے ہوئے جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا ۔

Comments are closed.