مشرقی لداخ میں ہندستان اور چینی افواج کے درمیان پھر جھڑپ

چینی فوج نے پھر سے پہلے سے طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ۔ فوجی ترجمان

سرینگر /31اگست : مشرقی لداخ میں ایک بار پھر ہندستانی افواج اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ کی خبر آئی ہے۔ فوج کے مطابق، پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں نے پہلے سے ہوئے اتفاق رائے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی لداخ میں دراندازی کی کوشش کی جس کے بعد ہندستانی فوج نے پینگوں اور پینگونگ جھیل علاقے میں چینی افواج کو گھسنے سے روکا۔ اس کے بعد بھی جب چینی فوجی رکنے کو تیار نہیں ہوئے تو ہندستانی فوج کو انہیں روکنے کے لئے مجبور ہونا پڑا جس کے بعد دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق مشرقی لداخ میں ایک بار پھر ہندستانی افواج اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ کی خبر آئی ہے۔ فوج کے مطابق، پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں نے پہلے سے ہوئے اتفاق رائے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی لداخ میں دراندازی کی کوشش کی جس کے بعد ہندستانی فوج نے پینگوں اور پینگونگ جھیل علاقے میں چینی افواج کو گھسنے سے روکا۔ اس کے بعد بھی جب چینی فوجی رکنے کو تیار نہیں ہوئے تو ہندستانی فوج کو انہیں روکنے کے لئے مجبور ہونا پڑا جس کے بعد دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 29/30 اگست کی رات چینی افواج نے پہلے سے ہوئی رضامندی کی خلاف ورزی کی۔ چینی فوج نے سرحد پر موجودہ صورت حال بدلنے کی ایک اور کوشش کی۔ پینگونگ جھیل کے جنوبی کنارے پر چینی فوج ہتھیاروں کے ساتھ آگے بڑھی تو ہندستانی فوج نے انہیں پیچھے کردیا۔ مشرقی لداخ میں ایک بار پھر ہندستانی افواج اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ کی خبر آئی ہے۔ فوج کے مطابق، پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں نے پہلے سے ہوئے اتفاق رائے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی لداخ میں دراندازی کی کوشش کی جس کے بعد ہندستانی فوج نے پینگوں اور پینگونگ جھیل علاقے میں چینی افواج کو گھسنے سے روکا۔ اس کے بعد بھی جب چینی فوجی رکنے کو تیار نہیں ہوئے تو ہندستانی فوج کو انہیں روکنے کے لئے مجبور ہونا پڑا جس کے بعد دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 29/30 اگست کی رات چینی افواج نے پہلے سے ہوئی رضامندی کی خلاف ورزی کی۔ چینی فوج نے سرحد پر موجودہ صورت حال بدلنے کی ایک اور کوشش کی۔ پینگونگ جھیل کے جنوبی کنارے پر چینی فوج ہتھیاروں کے ساتھ آگے بڑھی تو ہندستانی فوج نے نہ صرف روکا، بلکہ انہیں پیچھے کھدیڑ دیا۔پی آئی بی کے مطابق، چینی فوج نے جس جگہ سے سرحد کے اندر دراندازی کرنے کی کوشش کی تھی اس جگہ پر ہندستانی فوج نے پوزیشن کافی مضبوط کر لی ہے۔ فوج کے پی آر او کرنل امن آنند کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندستانی فوج بات چیت کے ذریعہ امن قائم کرنا چاہتی ہے لیکن اپنے ملک کی حفاظت کے تئیں وہ اتنی ہی عہدبستہ ہے۔پینگونگ کا جنوبی کنارا عام طور پر چشل سیکٹر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چینی افواج سے مئی میں ہوئے پرتشدد جھڑپ کے بعد سے اس علاقے میں ہندستانی افواج کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ بتا دیں کہ چینی فوج نے ایک بار پھر وہیں سے سرحد میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔واضح ر ہے کہ 15 جون کو بھی چینی فوجیوں نے وادی گلوان میں اسی طرح کی حرکت کی تھی۔ اس دوران ہوئی پرتشدد جھڑپوں میں دونوں اطراف کے فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ ہندوستان کے 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چین کے بھی کئی فوجی مارے گئے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین مشرقی لداخ میں تین ماہ قبل سے زائد عرصے سے ایکچول لائن آف کنٹرول پر تعطل جاری ہے۔ اس تازہ واقعے سے ایک بار پھر علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

Comments are closed.