صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں دھاندلیوں کے ریکارڈ قائم؛4ماہ سے ٹینڈروں کو التوا میں رکھ کر کمپنیوں کے ساتھ بھونڈا مذاق
ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے عدلیہ اور پارلیمنٹ میں جائیں گے/کمپنیوں کا بیان
قسط نمبر 2
سرینگر /27اگست/کے پی ایس/ شیر کشمیر انسٹی چیو ٹ آف میڈیکل سائنسز سرینگر کی جانب سے 30اپریل 2020کو پی پی ای (پر سنل پروٹیکٹیو ایکوپمینٹ ) کی خریداری کے لئے اجراء کئے گئے ٹینڈر گذشتہ چار ماہ سے نامعلوم وجوہات کے بنا پر التواء میںپڑے ہوئے ہیں۔جبکہ اس دوران صورہ میڈیکل انسٹی چیو ٹ کے ڈائریکٹر اور دیگر پرچیزنگ سے منسلک آفیسران نے انسٹی چیوٹ میں چور دروازے سے لاکھوں روپے کے پی پی ای کٹ اور دیگر ساز وسامان موٹی رقم کے عوض بغیر ٹینڈر خرید کر سر کا ری خزانے کی لوٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کشمیر پر یس سروس کے مطابق صورہ میڈیکل انسٹی چیو ٹ نے 30اپریل 2020کو ایک ٹینڈر نو ٹس زیر نمبر SKIMS/325-COVID19-2020-3719-26جاری کی جس کے تحت رجسٹرڈ کمپنیوں سے ڈاکٹروں اور دیگر نیم طبی عملہ کے لئے ذاتی حفاظتی ساز و سامان یا پی پی ای کٹ کی خریداری کے لئے ٹینڈر طلب کئے تھے ۔انسٹی چیو ٹ کی جانب سے جا ری کی گئی نو ٹس کے مطا بق ٹینڈر داخل کر نے کی آخری تا ریخ 6مئی2020دن کے تین بجے تک مقرر کی گئی تھی تاہم انسٹی چیو ٹ کے میٹیرئل مینجمنٹ آفیسر پر چیز۔1کے دفتر کی جانب سے 5مئی اچانک ایک اور نوٹفکیشن زیر نمبر SKIMS-325-Covid19-2020-3751-58 اجرا کیا گیا جس کے تحت نامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹینڈر داخل کر نے کی آخری تا ریخ 13مئی2020تک بڑ ھا دی گئی ۔اس دوران ذرائع کے مطابق جموں وکشمیر اور بھا رت کی دیگر ریا ستوں کی درجنو ں کمپنیوں یا ڈیلروں نے اس سلسلے میں Quotationsداخل کرنے کے علاوہ PPEکٹس کے سینکڑوں نمونے (SAMPLE)اسپتال میں جمع کرائے اور اس با ت کا انتظار کر نے لگے کہ آج نہیں تو کل ٹینڈر کھل جا ئینگے اور معقول قیمت اور معیاری سامان فراہم کرنے والی کسی کمپنی کے نام سپلائی آر ڈر اجرا کیا جا ئے گا ۔لیکن ٹینڈر میںشمولیت کرنے والے درجنوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے کسی بھی کمپنی کو سپلائی آرڈر فراہم کر نے کے بجا ئے تمام نمونے ہڑپ کرکے ٹینڈر کو ٹال دیا جبکہ اس دوران صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈائریکٹر اور پرچیزنگ کے افسروں نے موٹی رقم رشوت کے عوض حاصل کرکے چو ر دروازے براہ راست سپلائی حاصل کرکے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا لگایا۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک چار ماہ گزرنے کے باوجود بھی ناہی ان ٹینڈروں کو اسپتال انتظامیہ نے کوئی فیصلہ عمل میں لایا اور نا ہی ان کمپنیوں کو کوئی جواب بتایا۔ دلی کی ایک سپلائی کمپنی نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ انہوں نے اس وقت لاک ڈاؤن کےدوران 30ہزار روپے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرکے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ تک پی پی ای کٹس اور ماسکوں کا نمونے (SAMPLE)پہنچائے اور سرینگر پہنچنے تک کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ نے چور دروازے سے سپلائی آرڈر فراہم کئے ہیں جس میں کم سے کم 200 فیصدی اضافی ریٹ سرکاری خزانے سے نکالی گئی ہے لہٰذا ہم عدلیہ کا رجوع کرنے پرمجبور ہیں۔ ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ انسٹی چیو ٹ کے سابق ایم ایم او منظور احمد جو کہ گذشتہ ماہ ہی نوکری سے سبکدوش ہو ئے ہیں کو اس معاملے میں دائریکٹر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ اے جی آہنگر کی طرف سے دئے گئے احکامات کے مطابق براہ راست پرچیزنگ کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ہسپتال کے کچھ ذمہ داروں نے چو ر در وازے سے پی پی ای کٹ حاصل کر نے کے عوض کمپنیوں سے بھا ری رقوما ت کمیشن کے بطور حاصل کی ہیں اور کچھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کی جا نب سے پہلے ٹینڈر طلب کر نے اور پھر ان ٹینڈرس کو غیر ضروری طور التوا رکھنے کے عمل سے حیرت زدہ ہیں حالانکہ انہیں پی پی ای کٹس کے نمونے انسٹی چیو ٹ پہنچانے میں زبر دست مشکلات درپیش رہی ہیں اور انہوں نے اپنی جا ن پر کھیل کر یہ نمونے انسٹی چیو ٹ میں جمع کر وائے تھے ۔ان کا کہنا ہے کہ انسٹی چیوٹ کے ڈائریکٹر نے اپنے کئی رشتہ داروں جن میںخاص طور پر اپنے بھانجے کو اونتی پورہ کے دکان سے لاکر سپلائی آرڈر فراہم کرکے اُسے لاکھوں روپے کا فائدہ دیا۔ اس سلسلے میں ذرائع نے کے پی ایس کو بتایا کہ ڈائریکٹر کے بھانجے نے ڈپلی کیٹ پی پی ای کٹس سپلائی کرکے ڈاکٹروں کی زندگیوں سے بھی کھلواڑ کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے بیشتر کمروں اور وارڈوں سے کووڈ 19 برآمد ہوا۔ ٹینڈرس میں شرکت کرنے والے درجنوں کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹروں اور مالکان نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کی طرف سے کمپنی کے ساتھ کئے گئے مذاق کا سنجیدہ نوٹس لے کر اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کی جائے اور کووڈ 19 کے نام پر سرکاری خزانے سے نکالی گئی رقم کو سی بی آئی کی تحقیقاتی ٹیم بٹھائی جائے۔ دہلی ، چندی گڑھ، ہریانہ، پانی پت، پنجاب، جموں، تری پورہ اور یو پی کی درجنوں کمپنیوں جنہوں نے مذکورہ ٹینڈر میںحصہ لیا تھا ، نے بتایا کہ جموںو کشمیر میں اس طرح کے کورپشن کی مثال پیدا ہوگئی ہے اور اگر ملوث ڈائریکٹر اور آفیسران کے خلاف مناسب کاروائی نہ کی گئی تو وہ پارلیمنٹ میں اس مذاق کے خلاف شکایت درج کریں گے۔ انہوںنے مطالبہ کیا ہےکہ ڈائریکٹر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ اور پرچیزنگ کمیٹی کے کیخلاف دفعہ 420 کے تحت فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سلسلہ جاری
Comments are closed.