میوہ صنعت روبہ زوال ،صنعت سے وابستہ افراد کا حال بے حال

مسلسل موسمی تبدیلی،قیمتوں میں گرواٹ ،غیر معیاری ادویات اور نامساعد حالات بنیادی محرکات

صنعت کو بچانے کیلئے ٹھوس اور موثراقدامات اٹھانا سرکار کیلئے ناگزیر

سرینگر /26اگست/ کے پی ایس : وادی میں میوہ صنعت اقتصادیات کی بہتری اور بحالی کے حوالے سے ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس صنعت سے بے شمار لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہیں ۔یہ صنعت مزدور اور محنت کشوں کو روز فراہم کرتی ہے ۔لیکن چند برسوں سے مسلسل موسمی بدلائو،قیمتوں میں گرواٹ ،غیر معیاری جراثیم کش ادویات کے استعمال ،شاہراہیں بند ہونے اور نامساعد حالات کی وجہ سے میوہ صنعت روبہ زوال ہے ۔اس صنعت سے وابستہ افراد قرضوں تلے دب چکے ہیں اور واپس آنے کی ان کو کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔حالانکہ میوہ صنعت کے توسط سے ہی یہاں غربت دور ہوئی ۔معاشی حالت بہتر ی کی گامزن ہوئی اورترقی یافتہ دور کا آغاز ہوا ۔جن لوگوں کے پاس رہنے کیلئے مکان نہیں تھے لیکن میو ہ صنعت سے وابستہ ہونے کے بعد وہ فلک بوس مکانا ت تعمیر کرنے اور راحت رسان سامان میسر رکھنے کے اہل ثابت ہوئے جن لوگوں کے پاس گھروں سے باہر قدم رکھنے میںکیلئے وسائل دستیاب نہیں تھے وہی لوگ میوہ کاروبار کے سلسلے میں باہر ہی مصروف ہوگئے تھے اس کے علاوہ مزدور طبقہ کیلئے یہ صنعت روزگارکا اہم وسیلہ بن گیا تھا جبکہ اس صنعت سے حاصل ہونے والے رقم کثیرسے دیگر کاروباری سرگرمیاں اور تجارت بھی ترقی کی جانب گامزن تھی لیکن گذشتہ چند برسوں سے یہاں کے حالات نے نئی کروٹیں لیں جس کے نتیجے میں میوہ صنعت کافی حد تک متاثر ہوئی ۔میوہ کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی اور موسمی حالات نے بھی اپنا رخ بدل دیا ۔اس کے علاوہ میوہ صنعت کیلئے موزون سیز ن جس میں بیوپاری در آمد ی و برآمد ی کا عمل میں مصروف رہتے تھے ان ایام میں بالخصوص سرینگر جموں شاہراہ مسلسل مہینوں ہا بند رہے اس دوران میوہ جات سے بھری ہوئی گاڑیاں درماندہ ہوئیں اور میوہ سڑھ گیا یاتو اسٹوروں میں ہی زیادہ دیر تک میوہ موجود ہونے تباہ ہوا ۔یہاں کولڈ اسٹوروں کی کمی بھی ہے جس کی وجہ سے لوگ میوہ جات کو زیادہ دیر تک نہیں رکھ سکتے ہیں۔اگر چہ میوہ صنعت کو کمزور ہونے کے یہ چند وجوہات ہیں تاہم غیر معیاری جراثیم کش ادویات کے استعمال سے یہ صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ۔ اس سلسلے میںوادی کے مختلف علاقوں سے میوہ صنعت سے وابستہ افراد اور باغ مالکان نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ 70 سے90فیصدی سکیب کی بیماری میوہ جات میںپھوٹ پڑی ہے جس کے نتیجے میں درختوں سے میوہ جات خود بہ خود گرپڑتے ہیں ۔حالانکہ ادویات کے چھڑکائو میوہ جات کو بیماریوں سے بچانے کیلئے ہی کئے جاتے ہیں ۔لیکن ادویات کے چھڑکائو کے بعد ان کے میوہ زیادہ سے زیادہ بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں ۔یہاں؎ یہ بات غور طلب ہے کہ جراثیم کش ادویات غیرمعیاری اور ناقص ہیں اور المیہ یہ ہے کہ جراثیم کش ادویات جو بازاروں میں دستیاب ہوتے ہیں پر تسلیم شدہ ہونے کی مہر ثبت ہوتی ہے لیکن یہ ادویات غیر معیاری اور ناقص ہوتے ہیں۔ جس سے میوہ صنعت روبہ زوال ہے ۔حالانکہ یہ بات ہر ایک کیلئے چشم کشا ہے کہ میوہ صنعت سے جہاں لوگ آباد تھے وہیں سرکار ٹیکس کی صورت میں کافی رقومات حاصل کرسکتی تھی جبکہ اس صنعت کے زوال پذیر ہونے سے خزانہ عامرہ کوبھی خسارہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس سرکار کیلئے میوہ صنعت توجہ کا مرکز بن گیا ۔میوہ صنعت کو بچانے کیلئے اس صنعت سے وابستہ افراد کے بنکوں قرضوں میں رعایت ،قیمتوں میں اعتدال ،کولڈ اسٹوروں کی تعمیر ،محکمہ باغبانی کو متحرک کرنے اور غیر معیاری جراثیم کش ادویات کی جانچ کیلئے متعلقہ محکمہ کی جانب سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دینے کی خاطرموثر اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔تاکہ میوہ صنعت جو یہاں کے ہر انسان کیلئے روز گار کا ایک اہم وسیلہ ہے جس سے لوگ ناامید نہ ہوجائیں ۔

Comments are closed.