موسمی صورتحال میںتبدیلی ، وادی میں موسلا دار بارشیں ،شدید گرمی کا روزہ ٹوٹ گیا ،اہلیان وادی کو راحت

اونتی پورہ اور کنگن میں بادل پھٹ جانے سے ندی نالوں میں طغیانی ، ،اگلے 24گھنٹوں میںمزید بارشوں کا امکان

جموں میں بھی بارشوں سے سیلابی صورتحال ، راجوری میں شہری زمینی تودے کے نیچے دفن ، درجنوں میویشی لقمہ اجل

سرینگر/26اگست/سی این آئی// گزشتہ کئی دنوں سے جاری شدید ترین گرمی کی لہر کے بیچ محکمہ موسمیات کے پیشگوائی کے عین مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے ہی موسمی صورتحال میں تبدیلی آتے ہوئے وادی کشمیر میں موسلا دار کا سلسلہ شروع ہوا جو بدھ کو بھی دن بھر وقفے و قفے سے جاری رہا ۔ بارشو ں کے نتیجے میں گرمی کی لہر میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے ساتھ ہی لوگوں نے راحت کی سانس لی۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چوبیس گھنٹوں کے دورن وادی کشمیر میں مزید بارشیں ہونے کے امکانات ہیں۔ادھر وادی کے کئی علاقوں میںبادل پھٹنے کے واقعات کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آئی تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔سی این آئی کے مطابق شدید ترین گرمی کے بعد بدھ کو موسمی صورتحا ل میں اچانک تبدیلی آئی اور شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں موسلا دار بارشیں ہوئی ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے دوسرے اضلاع میں بدھ کی اعلیٰ الصبح سے ہی بارش ہوئی جس کے نتیجے میں گرمی کازور ٹوٹ گیا اور لوگوں نے راحت کی سانس لی ۔ ا س دوران ندی نالوں اور دریائوں میں پانی کی مقدار کافی کم ہونے کے نتیجے میں کسان اور زمیندار بھی پریشان تھے اور آج کی بارش سے ندی نالوں اور دریائوں و جھیلوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے کسان و زمیندار وں کے چہروں پر بھی خوشی ظاہر ہوئی ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں تازہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کا سلسلہ بعد دوپہرتک وقفہ وقفہ سے جاری ریا۔وادی میں تازہ بارشوں سلسلہ شروع ہواجس کی وجہ سے معمول کے درجہ حرارت میں پھر سے ایک بار کمی واقع ہوئی۔ سرینگر سمیت وادی کے دوسرے علاقوں میںوقفہ وقفہ سے بارشیں ہوتی رہیں با۔رشوں کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیوں میں خلل پڑا۔ نمائندے کے مطابق موسم کی غیر یقینی صورتحال اور بارشوں کے نتیجے میں اہلیان وادی نے گرمی کی شدت ترین لہر سے راحت حاصل کی۔ جبکہ موسلا دار بارشوں کے نتیجے میں شمالی و جنو بی کشمیر کے اکثر و بیشتر ندی نالوں میں پانی کا بہاو تیز ہوگیا۔ ادھرمحکمہ موسمیات نے وادی میں24 گھنٹوں تک بارشیں ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ادھر شہر سرینگر میں بدھ سے مسلسل جاری بارشوں نے ایک بار انتظامیہ کے تمام دعوئوں کی پول کھول دی ہے ۔مسلسل بارشوں کی وجہ سے شہر سرینگر کی سڑک جھیلوں میں تبدیل ہو گئی جس کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا پڑا ۔اگر چہ شہر سرینگر کے اکثر علاقوں میں اس وقت بغیر ڈرنیج سسٹم کے ہیںاور جن علاقوں میں گندہ پانی کی نکاسی کیلئے ڈرنیج سسٹم بنایا گیا ہے تاہم وہ بھی بہتر حالت میں نہیں ہے ۔ادھر بارشوں سے جہاں موسم میں بہتری آئی وہیں کئی مقامات پر بادل پھٹ جانے کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آئی ، ادھر نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقے میں دوران شب بادل پھٹنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے رابطہ سڑک کو شدید نقصان پہنچا جبکہ پرانی قومی شاہراہ پر بھی پانی جمع ہو گیا۔نمائندے نے بتایا کہ جو بیارہ اونتی پورہ کے نزدیکی پہاڑی میں بادل پھٹنے سے ملبہ ڈسٹرکٹ پولیس لائنز اونتی پورہ کو جانے والی سڑک پر جمع ہو گیا جس کی وجہ سے ڈی پی ایل کو جانے والی رابطہ سڑک پر گاڑیوں کی آمد ورفت متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ادھر گاندربل کے کنگن علاقے سے بھی نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ بارشوں کے بیچ بادل پھٹنے کے واقعات کے نتیجے میں ندی نالو ں میں پانی کا تیز بہائو آیا جس کے نتیجے میں پانی کئی علاقوں میں گھس گیا اور کھیتوں میں بھی پانی چلا گیا ۔ اسی دوران جموں میں بھی مسلسل بارشوں کے نتیجے میں کئی علاقوںمیں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔ شدید بارشوں کے بیچ ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں ایک جواں سال شہری زمینی تودے کے نیچے آکر دفن ہوگیا جبکہ ایک علیحدہ واقعہ میں کئی مویشی ایک شیڈ کے نیچے آگئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق 35سالہ محمد شوکت ولد محمد حسین ساکن کالر مورا(مینڈھر) ایک زمینی تودے کے نیچے آکر دفن ہوگیا۔یہ تودہ کوٹلی کے گولر نارا ڈھوک علاقے میں شدید بارش ک وجہ سے گر آیا۔شوکت کی لاش مقامی لوگوں کے ہاتھوں بر آمد کی گئی ہے۔مینڈھر کے ہی سانگیوٹ گاوں میںایک علیحدہ واقعہ میں بدھ کی صبح مویشیوں کا ایک شیڈ ڈھ گیا جس کے نیچے کئی مویشی آگئے۔مقامی ذرائع کے مطابق کم و بیش چھ بھینسیں شیڈ کے ملبے کے نیچے دبی ہیں اور اْنہیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ادھر راجوری ضلع کے سکتوہ اور درہال علاقوں میں بدھ کی صبح شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی ریلے آنے سے کئی سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا۔حکام کے مطابق راجوری میں شدید بارشوں کے نتیجے میںوہاں بہنے والے دو دریاوں کے پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی ہے۔حکام کے مطابق آج صبح سالانی کے مقام پر، جہاں سکتوہ اور درہالی دریا ملتے ہیں،پانی سطح سیلاب کی حد تک بڑھ گئی۔حکام نے مزید کہا کہ ایسا گذشتہ چالیس برس میں وہاں پہلی بار ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی سطح میں اب بتدریج کمی ہورہی ہے تاہم اچانک آئے سیلابی ریلوں کی وجہ سے کئی پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

Comments are closed.