تین روز بعد کریری بارہمولہ حملے کا ویڈ یو سوشل میڈیا پر وائرل

ویڈیو کو وائرل کرکے عسکریت پسندوں کی جانب سے شدت پسندی کی نمائش کی جا رہی ہے / پولیس

سرینگر/21اگست: تین دن بعد بارہمولہ حملے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کو وائرل کرکے عسکریت پسندوں کی جانب سے شدت پسندی کی نمائش کی جا رہی ہے تاہم اس طرح کی کوشش سے کچھ حاصل نہیں ہو نے والا نہیں ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع بارہمولہ میں سیکورٹی فورسز کی ناکہ پارٹی پر حملے کے دو دن بعد جنگجوئوں نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر اس حملے کی ایک ویڈیو جاری کی ۔ اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارورائیوں سے عسکریت پسندی کو فروغ دینے کوشش قرار دے رہی ہے۔سوشل میڈیا پر وایڈیو وائرل ہونے کے بعد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان نے ٹویٹر پر لکھا کہ ‘ اس حملے میں حصہ لینے والے تمام عسکریت پسند 72 گھنٹوں کے اندر ہلاک ہوگئے۔کشمیر زون پولیس کے آفیشل پیج پر ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ‘ بارہمولہ حملے کی ویڈیو جاری کرکے عسکریت پسند شدت پسندی کی نمائش کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔’انہوں نے مزید کہا کہ ‘ سکیورٹی فورسز نے چار اعلی کمانڈرز ، سجاد عرف حیدر، ایف ٹی تیمور خان عرف ابو عثمان، نصیر عرف صید بھائی، علی بھائی اور دانش کو 72 گھنٹوں کے اندر اندر کارروائیوں میں ہلاک کیا گیا۔’واضح رہے کہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے کریری علاقے میں 17 اگست کو سی آر پی ایف کی ناکہ پارٹی پر حملہ کرکے دو سی آر پی ایف اور ایک پولیس اہلکار ہلاک کئے تھے۔حملے کے بعد سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم ہوا تھا جس دوران تین عسکریت پسند اور دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے-پولیس کا کہنا تھا کہ اس تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ کمانڈر سجاد احمد میر عرف حیدر، غیر مقامی عسکریت پسند عثمان اور مقامی عسکریت پسند عنایت اللہ میر ہلاک کئے گئے تھے-جبکہ ہندواڑہ تصادم میں لشکر طیبہ تنظیم سے ہی وابستہ نصیر لون اور غیر مقامی عسکریت پسند علی بھائی ہلاک کئے گئے۔ (ایجنسی)

Comments are closed.