سرینگر /20اگست /کے پی ایس : شمالی کشمیر ضلع بارہمولہ کے اوڑی علاقہ میں لفٹ اری گیشن اسکیم کے تحت بنائی گئی نہر گذشتہ دس برسوں سے بے کار پڑی ہوئی ہے۔موصولہ تفصیلات کے مطابق اوڑی کے بیشتر علاقوں میں لوگ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے آبی اول اراضی جس میں دھان کی پیدوار حاصل کی جاتی تھی کی ہیت تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے۔بتایاجاتا ہے کہ اکثر زمینداروں نے آبی اول اراضی کی بھرائی کرکے اس کوخشکی میں تبدیل کیا ہے اور اب زمیندار ان زمینوں میں مکی یادال کے بیچ بوتے ہیں اوراسی پیدوار سے اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے محنت کرتے ہیں لیکن پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کا خون پسینہ ایک ہونے باوجود بھی وہ کچھ پیدوار حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے کے پی ایس کے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے رامپورہ اوڑی اور دیگر علاقہ جات میں پیڑ پودے اور فصلیں سوکھ پڑی ہیں جس سے علاقہ کے لوگوں کی معاشی حالت تباہی کی جانب گامزن ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہر کی حالت اس وقت ناگفتہ بہہ ہے اور ہلشری طور لوگ اس کی مرمت کرتے تھے تاہم اس کا فائدہ محدود فائدہ ھاصل ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں لوگوں نے آبی زمین کو خشکی میں تبدیل کردیا کیونکہ آبی کیلئے زیادہ پانی ضرورت ہوتی تھی لیکن محکمہ اری گیشن لوگوں کو محدود پانی سپلائی کرنے میں بھی بُری طرح ناکام ہوا ہے اور لوگوں کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اری گیشن کے ہر پمپ پر پانچ چھ ملازمین تعینات ہوتے ہیں لیکن اکثر اپنی ڈیوٹیوں سے غیر حاضر رہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ اری گیشن کے حکام اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لفٹ اری گیشن کے تحت بنائی گئی نہر کے ذریعے پانی سپلائی کیا جائے تاکہ لوگ اپنی فصلوں کی سیرابی کرکے پیدوار کو بچاسکیں اور اپیل کی کہ غیر حاضر ملازمین کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ محکمہ کا متاثر نہ ہوجائے ۔لوگوں کی اس شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کے پی ایس کے نامہ نگار مجیدشیری نے کئی پمپ شیڈوں کا معائنہ کیا تو وہاں پر ہر ایک پمپ پر صرف ایک یا دوملازمین حاضرپائے جبکہ ملازمین کی اکثریت ڈیوٹی پر موجود نہیں تھی ۔جس سے لوگوں کی شکایت حق پر مبنی ثابت ہوئی ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.