سرینگر /20اگست/کے پی ایس: شمالی کشمیرکے علاقہ مہاراج پورہ سوپور میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے’’ تنگ آمد بہ جنگ آمد ‘‘کے مصداق لوگ سڑکوں پر آئے اور محکمہ جھل شکتی کے خلاف زوردار احتجاج کیا۔احتجاج میں شامل لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای کے تعینات ملازمین اور افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقہ میں واٹر سپلائی اسکیم کے تحت پائپیں عرصہ دراز سے بچھائی ہوئی ہیں لیکن وہ بے کار ہیں کیونکہ پانی سپلائی کرنے میں لیت ولعل سے کام لیاجاتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ پانی کے ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہیں۔انہوں نے کے پی ایس نامہ نگار جنید شفیق سے بات کرتے ہوئے کہاکہ دوسرے علاقوں کی طرح اگرچہ مذکورہ علاقہ میں بھی واٹرسپلائی اسکیم ہے لیکن بے کارہے اور لوگوں کو پینے کیلئے معقول پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی ہر انسان کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر جاندار کیلئے اہمیت کی حامل ہے اور اس کے بغیر زندگی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے تاہم پانی سپلائی کیلئے قائم محکمہ کے ملازمین وافسران ذمہ داریوں سے پلے جھاڑ دیتے ہیں۔حالانکہ پانی کی معقول فراہمی ان کی ڈیوٹی اور ذمہ داری ہے لیکن وہ ذمہ داریوں کو نبھانے میں غفلت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقہ کے لوگوں بالخصوص خواتین کوپانی تلاش کرنے کیلئے دور دور جانے پر مجبور ہوناپڑرہاہے جبکہ ندی نالوں سے صاف پانی ملنا محال بن گیا ہے اس طرح سے مذکورہ علاقہ کے لوگ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشان حال ہیں اور روزانہ بنیادوں پر ان پریشانیوں کاسامنا کرناپڑرہا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقہ میں پانی کی معقول فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے بصورت دیگر لوگ پھر سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.