مانیٹرنگ
سرینگر/19اگست: گزشتہ ایک ہفتہ سے زیادہ عرصے سے اسپتال میں داخل سابق صدر پرنب مکھرجی کی حالت پہلے کی بہ نسبت خراب ہوگئی ہے اور پھیپھڑے میں انفیکشن ہوگیا ہے۔ پرنب مکھرجی 10 اگست سے آرمی ریسرچ اینڈ ریفرل اسپتال میں زیر علاج ہیںمکھرجی کا کووڈ ٹسٹ پہلے ہی پازیٹیو آیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کے چسٹ کا انفکشن وائرس کی وجہ سے ہی بڑھ رہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے سابق صدر اور کانگریس پارٹی کے سینئر ترین رہنمام پرنب مکھرجی کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ کوروناوائرس کے شکار ہوگئے ہیں جبکہ ان کا ٹسٹ پہلے ہی پازیٹو پاگیا جس کی وجہ سے ان کے چھاتی کے انفکشن میں مزید اضافہ ہوا ہے جبکہ موصوف پہلے سے کئی امراض میں مبتلاء بھی ہیں۔گزشتہ ایک ہفتہ سے زیادہ عرصے سے اسپتال میں داخل سابق صدر پرنب مکھرجی کی حالت پہلے کی بہ نسبت خراب ہوگئی ہے اور پھیپھڑے میں انفیکشن ہوگیا ہے۔ پرنب مکھرجی 10 اگست سے آرمی ریسرچ اینڈ ریفرل اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسپتال کی طرف سے جاری کردہ بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ پرنب مکھرجی کی پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے حالت خراب ہوگئی ہے۔ اسے وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی صحت کی مستقل نگرانی کر رہی ہے۔اس سے قبل ان کے بیٹے ابھیجیت مکھرجی نے کہا تھا کہ ان کے والد کی حالت مستحکم ہے اور صحت میں بہتری کے مثبت آثار نظرآرہے ہیں۔ وراسی سالہ مسٹر مکھرجی کے دماغ میں خون کا تھکہ جم گیا تھا ، جسے ہٹانے کے لئے اس کا آپریشن کیا گیا ہے۔ سابق صدر کو بھی کرونا وائرس کا انفیکشن پایا گیا تھا۔ابھیجیت نے آج ٹوئیٹ کیا تھا ، "آپ سب کی دعاؤں اور ڈاکٹروں کی انتھک محنت کی وجہ سے اب میرے والد مستحکم ہیں۔ ان کے جسم کے تمام بڑے اعضا مستقل طور پر قابو میں [کام کررہے ہیں] ہیں اور مناسب طریقے سے کام کررہے ہیں۔ اس کی صحت میں بہتری کے مثبت آثار ہیں۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کریں۔منگل کو بھی اسپتال سے جاری بیان میں کہا گیا تھا، ’پرنب مکھرجی کی صحت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ وہ بھی وینٹیلیٹر پر ہیں اور ان کے اہم اعضا کی حالت مستحکم ہے’۔ پرنب مکھرجی سال 2012 سے 2017 تک ملک کے 13 ویں صدر رہے۔
Comments are closed.