جامع مسجد سرینگر کے محراب سے ایک بار پھر گونجی آذان؛قریب 5ماہ بعد تواریخی مسجد شریف میں سماجی دوری کے ساتھ نماز ادا
سرینگر/18اگست: جامع مسجد سرینگر میں آج ایک بار پھر طویل وقفے کے بعد نماز ظہر کیلئے آذان دی گئی جس کے ساتھ ہی سماجی دوری کو برقراررکھتے ہوئے مسجد شریف میں نماز اداکی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق کووڈ19کی وجہ سے لاک ڈاون کے دوران رواں برس کے ماہ مارچ سے جامع مسجد سرینگر مقفل تھی کیوں کہ سرکار نے کووروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے تمام مذہبی مقامات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم گزشتہ روز سرینگر میں معمولات زندگی دوبارہ بحال ہوئی جبکہ جموں کشمیر میں تمام مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی تاہم جامع مسجد شریف کو آج نمازیوں کیلئے کھول دیا گیا ۔ اس طرح سے توریخی جامع مسجد شریف سے نماز ظہر کی آذان کی صداء ایک بار پھر بلند ہوئی جس پر لوگوں نے اطمینان اور مسرت کااظہار کیا ۔ اس دوران جامع مسجد شریف میں سماجی دوری کو برقراررکھتے ہوئے لوگوں نے نماز ظہر اداکی ۔ یاد رہے کہ جامع مسجد کو قریب 5ماہ بعد نمازیوں کیلئے کھول دیا گیا ۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں روزانہ کی تعداد میں کورونا مثبت کیسز میں اضافہ جاری ہے ، لہٰذا لوگوں کو صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور طبی ماہرین کے ذریعہ صحت عامہ کے ضوابط و ہدایت پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انجمن اوقاف جامع مسجد نے کہا کہ روزانہ کی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے ایک "لائحہ عمل” دنیا بھر میں تیار ہورہا ہے کیونکہ لاک ڈاوئون کی پابندیاں آسان ہورہی ہیں اور روز مرہ کی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔بیان میںکہا گیا تھا کہ لہٰذا انجمن اوقاف نے مشاورت کے بعد عالم اسلام کی مساجد اور عبادتگاہوں کے تئیں اپنائے گئے طرز عمل کو اختیار کرتے ہوئے ان کی روشنی میں انشاء اللہ 18 اگست بروز منگلوار سے نماز کے لئے تاریخی جامع مسجد سرینگر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Comments are closed.