رکشہ منچ کے ممبروں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جائے:عوامی نیشنل کانفرس

کہا سرکار کو چاہئے کہ وہ پارٹی کے زیر نگران میڈیا چینل کی لائسنس کو منسوخ کریں۔

سرینگر/ 17اگست : عوامی نیشنل کانفرنس نے ایک ویڈیو وائرل ہونے پر سینٹینل بھارت رکشہ منچ ریسی کے ممبروں کے ذریعے توہین آمیز تبصرے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ممبران کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کے تحت گرفتار کرلیا جائے،جبکہ اس پارٹی کے زیر نگران چلائی جارہی میڈیا چینل کی لایئسن کو بھی منسوخ کیا جانا چاہئے۔کشمیرنیوز ٹرسٹ کے مطابق عوامی نیشنل کانفرنس (اے این سی) کی سربراہ بیگم خالدہ شاہ نے کہا کہ معاشرے میں ایسے عناصر کیلئے کوئی جگہ نہیں جو امت مسلمہ کو تکلیف اور توہین کرکے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے پر تلے رہے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہبی منافرت پر حکمرانی کرنے والی طاقتوں کی اس حکمت عملی کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ بیگم خالدہ شاہ نے کہا کہ مذہبی ، معاشرتی ، سیاسی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو اس سلسلے میں آگے آنا چاہئے تاکہ اس بات کو یقینی بنانا جائے کہ اس منافرت بازی کی طاقت جو ہمارے معاشرے کو ذات پات ، مذہب ، اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔اے این سی کے سینئر نائب صدر مظفر احمد شاہ نے کہا کہ توہین آمیز تفصرے پر انہوں نے سیاسی ، سماجی اور مذہبی تنظیموں بشمول این سی، کانگریس، سی پی ائی ایم، شیعہ فیڈریشن جموں پروینس، شیو سینا، ڈوگرہ صدر سبا، سکھ کارڈینیشن کمیٹی،جموں مسلم فرنٹ، تسکین پبلیکیشنز، پنتھرس پارٹی، جموں چیمبر اف کامرس، پنڈت تنظیموں سے ٹیلیفون پر بھی بات کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے،تاکہ وہ امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے متحد رہنے کیلئے معاشرے میں فرقہ پرست عناصر کو ایسے حالات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دیں۔عوامی نیشنل کانفرنس کی سربراہ خالدہ شاہ نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کیلئے رکشہ منچ کے زیر نگران چلائی جارہی میڈیا چنل پر بھی مکمل پابندی عائد کرنے علاوہ اس نشریات کی لایئسن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے،تاکہ ایسے منافقانہ عناصر کو معاشرے سے الگ تھلگ کیا جاسکے جو فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے پر تلے ہوئے ہیں۔(کے این ٹی)

Comments are closed.