سرحدوں پر کشیدگی اور تنائو کا ماحول جاری ، اب نوشہرہ سیکٹر میںگولہ باری

دونوں ممالک کے افواج نے ایک دوسرے کی چوکیوں کو نشانہ بنایا ، کوئی نقصا ن نہیں

سرینگر/17اگست: ہند پاک کے مابین کشیدگی کے چلتے سرحدوں پر بھی تنائو کا ماحول بدستور جاری ہے ۔ سوموار کو ایک مرتبہ پھر راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ہند پاک افواج کے مابین آمنا سامنا ہوا جس دوران دونوں ممالک کے افواج نے ایک دوسرے کی کو نشانہ بنا کر فائرنگ اور شلنگ کی ۔ تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی ہے ۔ ادھر سرحدی آباد سماعت شکن دھماکوں کی آوازوں سے خوفزدہ ہوگئیں ۔دفاعی ترجمان نے ایک بار پھر پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہندوپاک سرحدوں پر کشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سوموار کو ایک مرتبہ پھر سرحدوںپر کشیدگی کا ماحول دیکھنے کو ملا اور راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ہندوستان اور پاکستانی فوج نے ایک بار پھر ایک دوسرے کی چوکیوں کو نشانہ بناکرجدید ترین ہتھیاروں کااستعمال کیا جبکہ دونوں جانب مورٹار گولے بھی داغے گئے ۔ اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں جانب جدید جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے سماعت شکن آوازوں کی وجہ سے سرحدی آبادی میں سخت خوف و دہشت پھیل گئی اور لوگ محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ نوشہرہ سیکٹر میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے مابین گولہ باری کا تبادلہ ہوا تاہم کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ سوموار کو پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔پاکستانی فوج نے ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔پاکستانی فوج نے ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔انہوں نے کہا کہ وہاں تعینات بھارتی فوجی اہلکار حملے کا بھر پور جواب دے رہے ہیں تاہم فی الوقت کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سال رواں کے دوران اب تک بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر طرفین کے مابین گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے زائد از دو ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔طرفین کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے اور گذشتہ کچھ ماہ سے جاری کورونا وبا کے با وصف بھی سرحدیں لگاتار گرم ہیں جس سے آر پار کی سرحدی بستیوں کے لوگوں کا جینا مزید مشکل بن گیا ہے۔

Comments are closed.