سرینگر میں سوموار سے کاروباری اور ٹرانسپورٹ کی مشروط سرگرمیاں ہوں گی بحال

مسافر گاڑیوں میں پچاس فیصدی مسافر اور 50فیصدی دکانیں کھولنے کی ہوگی اجازت

سرینگر/16اگست: سوموار سے شہر سرینگر میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی جس دوران 50فیصدی دکانیں کھلونے کی اجازت ہوگی جبکہ ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بھی مشروط بحال ہوں گی اس دوران ضلع انتظامیہ نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری احکامات اور ہیلتھ گائڈ لائن پر سخت سے عمل کریں تاکہ کووروناوائرس کے پھیلائو کو کسی حد تک کم یا جاسکے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں کووڈ19میں تیزی کے ساتھ اضافہ کو دیکھتے ہوئے سرکار نے دوبارہ لاک ڈاون جاری کیا تھا جس کی وجہ سے ایک بار پھر وادی میں معمولات کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں تاہم اب دوبارہ سے مرحلہ وار طریقے سے ان لاک شروع کیا گیا ہے ۔ پہلے انتظامیہ نے کہا تھا کہ 16اگست یعنی اتوار سے سرینگر میں دکانیں کھولی جائیں گی تاہم اب سوموار یعنی 17اگست سے بازار دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق50فیصدی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی جبکہ ٹرانسپوٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ گائد لائنوں پر عمل کریں ۔ منی بسوں میں پچاس فیصدی مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت ہوگی ۔ چھوٹی گاڑیوں میں چار مسافر اور میکسی کیب اور آٹو رکھشا میں دو مسافروں کو بھر سکتے ہیں۔اس ضمن میں ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہا ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔ اس سلسلے میں سٹیٹ ایگزکیٹوکمیٹی کی وساطت سے 4اگست کو حکمنامہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ 50فیصدی دکانیں کھولنے کی شرف پر کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی نصف مسافروں کو لیکر چلنے کی اجازت ہوگی ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں گزشتہ پانچ ماہ سے مکمل طور پر کاروباری سرگرمیاں معطل ہے ۔ دکانیں او ر ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تاہم وادی میں کووڈ19کے کیسوں میں مسلسل اضافہ کے پیش نظر سرکار نے عارضی طور پر ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں پر پابند ی لگائی تھی۔ یاد رہے کہ آج یعنی 16اگست سے وادی میں تمام مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولنے کی ابھی اجازت دی گئی ہے جس سے عام لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

Comments are closed.