‘نوگام حملہ میں جیش کا ہاتھ’ ؛ ؛پولیس حملہ آوروں کوپکڑنے کےلئے سرگرم ،جلد ہی کاروائی ہوگی /ڈی جی پی دلباغ سنگھ

سرینگر /14اگست/کے پی ایس: جموں وکشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا نوگام حملہ جس میں دو پولیس اہلکار ازجان ہوئے میں جنگجوتنظیم جیش محمد ملوث ہے ۔انہوں نے کہاکہ پولیس حملہ آوروں کو ڈھونڈنکالنے کےلئے سرگرم عمل ہے ۔انہوں۔نے یقین کے ساتھ کہا کہ پولیس حملہ آوروں کےخلاف جلد ہی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ڈی جی موصوف نے پولیس اہلکار فیاض احمد اور اشفاق ایوب کی تہیجز وتکفین کے دوران الگ سے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ حملہ میں جیش محمد کا ہاتھ ہےاورکہا کہ پولیس ودیگر ایجنسیاں حملہ۔آوروں کو ڈھونڈنکالنے کےلئے متحر ک ہے ۔انہوں۔نے کہا کہ 15اگست کے سلسلے میں اضافی پولیس سرینگراور شہرکے دوسرے علاقوں میں تعینات تھی انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے اس دوران عسکریت پسندوں نے موقعہ کا فائدہ اٹھا کر نوگام میں پولیس اور ایس ایس بی کی مشترکہ پارٹی پر حملہ کیا جس سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے اور ایک زخمی ہوا جو اسپتال میں زیر علاج ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنگجو ہمیشہ پولیس اور فورسز پر حملہ۔کرنے کی تاک میں رہتے ہیں اور ان موقعوں کے دوران کامیاب ہوجاتے ہیں ۔اور کہا کہ اس طرح کے واقعات تب ہی پیش آتے جب کشمیر میں حالات بہتری کی جانب گامزن ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک یہاں امن نہیں چاہتا ہے اسی لئے اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں جس سے بدامنی کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عنقریب جنگجو مخالف اوپریشنز شروع کئے جائیں گے ۔انہوں نے پولیس و فورسز جوانوں سے جو مامور ہیں سے مخاطب ہوکر کہاکہ شہید ہوئے دونوجوانوں کےلئے بہترین خراج یہ ہے کہ وہ کل کی تقریب کو بہترطریقے سے منعقد کرنےکو یقینی بنائیں اور کہاکہ ہم اس وقت ان حادثات کو برداشت کریں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر
ا ور سرینگر کےدیگر علاقوں میں سیکورٹی بڑھائی جائے گی۔اور ہم پولیس کو جدید اسلح سے لیس کریں گے جس سے ان کا تحفظ یقینی بن جائے گا اور کہا کہ گشتی پارٹی کے ساتھ ڈرون کو بروئے کار لائیں گے اورگاڑیوں پر سی سی ٹی وی نصب کریں گے ۔اس موقعہ پر لفٹنٹ گورنر کے مشیربی آر بٹناگر نے بولتے ہوئے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور شہید اہلکاروں کو خراج پیش کیا اوران۔کے لواحقین کے ساتھ غم کی اس گھڑ ی میں برابر شریک ہونے کا اظہارکیا

Comments are closed.