کشمیر میں خودکشی کے واقعات کا بڑھتا ہوا تباہ کن رحجان
کولگام میں ایک اور نوجوان نے خودکشی کرکے زندگی کا خاتمہ کرڈالا
سرینگر /9 اگست: جنوبی ضلع کولگام میں ایک نوجوان نے زندگی سے تنگ آکر اپنے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ادھروادی کشمیر میں خودکشی کے بڑتے واقعات کے سلسلے میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ خودکشی کرنے والوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کیلئے زہر کا استعمال کیا ہے۔کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق کولگام کے مضافاتی علاقے ڈی ایچ پورہ میں ایک جواں سال لڑکے نے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق بلال احمد ولد غلام محمد لون ساکنہ ڈی ایچ پورہ نے کسی زہریلی شئہ کا استعمال کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا ہے۔پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔واضع رہے رواں سال کو شمال و جنوب میں درجنوں کے قریب خواتین،لڑکیوں،نوجوان اور دیگر اشخاص نے مختلف پھندے آزما کر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا ہے۔کے این ٹی کے مطابق گورنمنٹ آف انڈیا نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق وادی کشمیر میں خودکشی کے بھیانک واقعات کے دوران تقریباََ 40 فیصد لوگوں نے اپنی زندگی کے خاتمے کیلئے زہریلی شے کو آسان طریقے سمجھ کر موت کو گلے لگایا۔ اعداد و شمار کے مطابق 18 فیصد لوگوں نے پھانسی کے ذریعہ اپنی زندگی کا جہاں خاتمہ کردیا وہیں اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو عمر بھر کیلئے پریشانیوں میں دھکیل دیا۔رپورٹ کے مطابق باقی لوگوں نے خودکشی کرنے کیلئے دوسرے متبادل راستے چن لئے جبکہ 21 فیصد نے دریاوں میں یا عمارتوں سے چھلانگ مار کر خودکشی کے خطرناک کام کو انجام دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2019 سے خودکشی کے واقعات کا جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کے مطابق اس سے قبل کے سال کے مقابلے میں خودکشی کے واقعات میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے جو انتہائی تشویش کے قابل ہے۔
Comments are closed.