چین سے کشیدگی: امریکہ نے تائیوان کی حمایت میں اضافہ کر دیا

سرینگر/ 9 اگست: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین پر دباؤ بڑھانے کے لیے تائیوان کی حمایت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کے دورہ تائیوان کے باوجود امریکہ کی جانب سے متنازع معاملات پر احتیاط برتی جا رہی ہے۔کشمیرنیوز ٹرسٹ مانیٹرنگ کے مطابق امریکہ کی صدارتی کابینہ کے رکن ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز سیکرٹری الیکس ازار تائیوان کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کی جانب سے تائیوان کی کرونا (کورونا) وائرس کے خلاف زبردست حکمت عملی کو بھی دیکھا جائے گا۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کو صدارتی انتخابات میں امریکہ میں کرونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث مشکل صورت حال کا سامنا ہے اور وہ اس وبا کا ذمہ دار چین کو قرار دیتے ہیں۔کے این ٹی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جو چین کے حوالے سے سخت گیر موقف رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی کابینہ اراکین تائیوان کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہ دورہ بھی ماضی کی پالیسیز سے مطابقت رکھتا ہے۔ الیکس ازار وہاں جا کر عوامی صحت کے معاملے پر بات کریں گے جن میں ویکسین کی کھوج بھی شامل ہے۔ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ تائیوان کے حوالے سے چین کی حساسیت سے واقف ہے۔ ڈگلس پال جو کہ سابق صدر جارج بش کے زمانے میں تائیوان کے امریکی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکہ ابھی بھی چین کی بات سن رہا ہے۔ چین چاہتا ہے کہ ایسا کوئی امریکی عہدیدار تائیوان کا دورہ نہ کرے جو دفاعی معاملات دیکھتا ہو۔ٹرمپ انتظامیہ نے چین کے خلاف کافی سخت گیر پالیسی اپنا رکھی ہے اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے کی چار دہائیوں پر مبنی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے معروف چینی ایپس ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر مکمل پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے ہانگ کانگ کی رہنما پر نئے قوانین کی وجہ سے پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔گذشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تائیوان کے فلیٹ کو بدلنے کے لیے آٹھ ارب ڈالر کے جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو عالمی تنظیموں کا حصہ بنانے پر زور بھی دیا جا رہا ہے، جن میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی شامل ہے۔

Comments are closed.