راجوری اور پونچھ میں قدرتی وسائل کو کریشر ، تعمیراتی کمپنیاں اور میننگ مافیا تباہ کر رہے ہیں

مچھلیوں کی پیدوار میں کمی اور محکمہ مچھلی پالن خاموش، محکمہ میننگ اینڈ جیولوجی گیری نیند میں

سرینگر/08اگست: موجودہ وقت میں جہاں ایک طرف کورونا وائرس نے غریب امیر سب کو مجبور کر کے بے بس بنا دیا ہے تو وہیں مفاد پرست قدرتی وسائل کو تباہ کرنے میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سرکاری سیکٹر میں کروڑوں روپے کے تعمیری کام چل رہے ہیں جس سے لوگوں کو راحت ملے گی لیکن راحت کے نام پر قدرتی وسائل کو تباہ کیا جارہا ہے۔ سی این آئی کے مطابق سرکاری پروجیکٹوں کی تعمیر کے لئے میٹرئیل قدرتی وسائل کو تباہ کرنے کے بعد تیار ہوتا ہے۔ راجوری اور پونچھ میں موجود وقت میں ندی نالوں کی حالت سے یہ صاف ہوتا ہے کہ کس قدر قدرتی وسائل کو تباہ کر کے پتھر اور بجڑی نکالی جاتی ہے اس میں میننگ مافیا ایک نمبر پر ہے جو ریت اور بجڑی نکال کر فروخت کرتے ہیں دوسرے نمبر پر کریشر پلانٹ جو مشینوں کی مدد سے ندی نالوں میں بڑے بڑے کھڈے کر کے پتھر نکالتے ہیں جس کو بعد میں کریشر پلانٹ سے ریت اور بجڑی میں تبدیل کیا جاتا ہے ان سب میں بے رحمی کی وجہ سے ندی نالوں اور دریا میں مچھلیوں کی پیداوار کو ختم کر دیا ہے اور ساتھ ندی نالوں میں پانی بھی ختم ہوگیا ہے اور علاقے خشک ہوگے ہیں۔ ندی نالوں میں مچھلیوں کی پیدوار کم ہوگئی لیکن محکمہ مچھلی پالن نے کسی بھی طرح کی کوئی کاروائی نہیں کی یہاں تک کہ غیرقانونی طور پر ندی نالوں میں کھدائی کی جارہی ہے لیکن محکمہ میننگ جیولوجی گیری نیند میں آرام فرما ہیں اور ندی نالوں کے آس پاس کی انسانی آبادی خطرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ کھدائی کی وجہ سے ندی نالوں کے پانی کا رْخ آبادی کی طرف تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ (سی این آئی )

Comments are closed.