وادی میں خود کشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ؛جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے اپنی زندگی کی ختم ، پلوامہ میں نوجوان کی نعش بر آمد

سرینگر/08اگست: ضلع اننت ناگ میں سنیچروار کو ایک نوجوان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اپنے کمرے میں خود کو پھندے سے لٹکاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا ۔پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کرکے معاملے کی چھان بین شروع کردی ۔ادھر پلوامہ میں رمشی نالہ کے نزدیک ایک نوجوان کی نعش بر آمد کر لی گئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اُتراسو نامی گائوں میں آج اُس وقت کہرام مچ گیا جب ایک 21برس کے نوجوان کی نعش کو اس کے اپنے ہی گھر میں رسی سے لٹکتی ہوئی پائی گئی ۔ ذائع سے معلوم ہوا ہے کہ سنیچروار کی صبح کنڈیجی براری آنگن نامی علاقے میں ایک نوجوان نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اپنے آپ کو پھندے سے لٹکاکر اپنی زندگی ختم کردی ہے ۔ اس واقع کی خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی اور لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقع پر پہنچی ۔ اس دوران مقامی پولیس نے نعش کو اپنی تحویل میں لیکر معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ 8روز میں چھ افراد نے خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا ہے ۔ ادھر لوگوںنے وادی میں خود کشی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں طویل بندشوں اور مسلسل لاک ڈاون کے علاوہ کوروناوائرس کی وبائی بیماری میں اضافہ کی وجہ سے لوگوں میں زہنی تنائو بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس طرح کے راست اقدام اُٹھارہے ہیں ۔ لوگوںنے کہا کہ وادی میں لاک ڈاون کو ختم کرکے معمولات زندگی بحال کی جائے تاکہ لوگ اپنے کاروبار کی طرف متوجہ ہوکر زہنی تنائو سے نجات حاصل کرسکیں۔ ادھر جنوبی ضلع پلوامہ کے رومشی نالے کے ایک نوجوان کی نعش بر آمد کر لی گئی جس کے بعد پولیس نے نعش کو اپنی تحویل میںلیکر تحقیقات شروع کر دی ہے ۔

Comments are closed.