‘پرائیویٹ اسکولوں کو وارننگ’: دوران لاک ڈاون تدریسی وغیر تدریسی عملہ کو برطرف کرنے یا ان کی تنخواہیں روکنے پراسکول کی کی رجسٹریشن کالعدم قراردی جائے گئی/ناظم تعلیمات
سرینگر/8اگست/کے پی ایس: شعبہ تعلیم کے انتظامیہ نے پرائیویٹ اسکولوں کے منتظمین کو خبردار کیا ہے کہاہے کہ اگر انہوں نے کوڈ 19کے حوالے سے نافذ شدہ لاک ڈاون کے دوران اسکولوں میں تعینات تدریسی وغیر تدریسی عملہ میں سے کسی کو برطرف کیا ہوگا یا ان کی ماہانہ تنخواہیں واگذار نہیں کی گئی ہو تو ان پرائیویٹ اسکولوں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔حقائق سامنے آنے کے بعد ان اسکولوں کی رجسٹریشن کالعدم قرار دی جائے ۔اس حوالے سے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر محمد یونس ملک نے واضح کیاکہ لاک ڈاون کے دواران نجی اسکولوں میںعملہ کی تنخواہیں واگذار کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیںاور جواسکول ان ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہوگا تو ان اسکولوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گئی ۔حقائق سامنے آنے کے بعد ان کے اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں میں کام کرنے والا تدریسی وغیر تدریسی عملہ سے وابستہ کئی اسکولوں کے ملازمین کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہیں کہ ان کو لاک ڈاون کے دوران ملازمت سے برطرف کیا گیا یا ان کی ماہانہ تنخواہیں واگذارنہیں کی گئی ہیں ۔انہوں نے اسکول منتظمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ پہلے سے ہی جاری کردہ سرکیولر کے مطابق زیر تعلیم بچوں سے صرف ٹیوشن فیس حاصل کرکے تدریسی وغیر تدریسی عملہ کی ماہانہ تنخواہیں واگذار کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے چند اسکولوں کے منتظمین کو دفتر طلب کیا گیا تھاتاکہ عملہ کی جانب سے موصول ہوئیں شکایات کا ازالہ کیا جائے توان اسکولوں نے برطرف کئے ہوئے اساتذہ کی بحالی اور ماہانہ فیس کی واگذارہ کایقین دلایا ۔
Comments are closed.