قربانی کے جانوروں کی کھالیں ، سڑکوں ، کھلی زمین اور دریائوں پر پھینک دی گئی

گرمی کی وجہ سے سڑھی ہوئی کھالوں سے سخت بدبو پھیلنے سے لوگ پریشان

سرینگر/07اگست: قربانی کے جانوروں کی کھالیں لوگوںنے سڑکوں ، کھلی زمین اور ندی نالوں پر پھینک دی ہے جس کی وجہ سے گرمی کے سبب ان سڑھی ہوئی کھالوںسے سخت بدبو پھیل جاتی ہے جس سے مختلف بیماریاں پھوٹ پڑنے کاامکان ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عید الاضحی کے موقعے پر بھیڑ ،بکریوں اور بڑے جانوروں کی قربانیاں کرنے والے ان جانوروں کی کھالوں کو درسگاہوں یا اسلامی بیت المالوں کو دیتے تھے جو ان کھالوں کو اکٹھاکرکے فروخت کرتے تھے تاہم جب سے بین بھارت نے ان کھالوں کو بیرون ممالک بھیجنے پر اضافی ٹیکس لگایا ہے کھالوں کا تجارت بند ہوا ہے اور ہزاروں لیدر کی فیکٹریاں بند ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں مقامی طور پر نکلنے والی کھالوں کی قیمتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔ پہلے جو بھیڑ کی کھال 400سے پانچ سو رپے فروخت کی جاتی تھی اب اس کی قیمت 10سے 20روپے ہے جبکہ ان پر قریب پچاس سے ایک سو روپے خرچہ آتا ہے اسلئے ان کھالوں کو ا ب کوئی خریدنے والا نہیں رہا ۔ وادی کشمیر میں بھیڑ بکریوں اور بڑے جانوروں کی قربانیاں دینے والے اب ان کھالوں کو سڑکوں ، کھالی اراضی اور ندی نالوں میں پھینک دیتے ہیں جبکہ کھالوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے سر اور پائے بھی پھینک دئے جاتے ہیں جو کہ گناہ عظیم ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیات کیلئے مضر بھی ہے ۔ قربانیوں کے جانورو ں کی کھالوں کو پھینک دینے سے بہتر ان کو کسی پاک جگہ پر دفن کرنا ہے تاہم وادی کے مختلف علاقوں سے اطلاع ملی ہے کہ اکثر لوگوںنے جانوروں کی کھالوں کو پھینک دیا ہے اور گرمی کے ان دنوں میں ان سڑھی ہوئی کھالوں سے سخت بدبو پھیل جاتی ہے جو کئی طرح کی بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں لوگوںنے اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ جہاں پر بھی یہ کھالیں پڑی ہیں ان کو وہاں سے اُٹھاکر کسی جگہ ضائع کیا جائے ۔

Comments are closed.