سرینگر/07اگست: جنوبی ضلع کولگام سے ٹیر ٹیوریل فوجی اہلکار کی اغوا کاری کے پانچ روز بعد شوپیان کے باغات میں ان کے کپڑے بر آمد ہوئے تاہم فوجی اہلکار کے بارے میںابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں مل سکا ۔ ادھر اغوا شدہ فوجی اہلکار کے والد نے اغوا کاری سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو مار دیا گیا ہے تو ان کی نعش بھیج دی جائے اور اگر نہیں تو انہیںکوئی اطلاع فراہم کی جائے کیونکہ یہ قتل بھی ہو سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق رواں ماہ کی دو تاریخ کو نا معلوم افراد نے شوپیان سے تعلق رکھنے والے ٹیر ٹیوریل فوجی اہلکار شاکر منظور ولد منظور احمد کو اغوا کر دیا جبکہ اس کی ذاتی گاڑی کو نظر آتش کر دیا ہے ۔ اغوا کاری کے بعد اگرچہ فوج و فورسز نے فوجی اہلکار کی باز یابی کیلئے کارورائی شروع کر دی تاہم ابھی تک اس کا کہیں سے کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے ۔ جمعہ کی صبح فوجی اہلکار کی اغوا کاری کے پانچ روز بعد شوپیان کے لنڈورہ امام صاحب علاقے کے باغات میں کچھ لوگوں نے شاکر منظور کے کپڑے بر آمد کئے جس کے بعد انہوں نے گھروالوں اور پولیس کو مطلع کیا ۔ باغات سے کپڑے بر آمد ہونے کے بعد پولیس و فورسز نے تلاشی آپریشن میںتیزی لائی اور فوجی اہلکار کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے تلاشی آپریشن میں سونگھنے والے کتوں کا بھی استعمال کر دیا ۔ اسی دوران شاکر کے کپڑے بر آمد ہونے کے بعد ان کے والد منظور احمد نے اغوا کاروں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو مار دیا گیا ہے تو ان کی نعش انہیں واپس فراہم کی جائے تاکہ وہ آخری رسومات ادا کر سکے ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک منٹ کا ویڈیو جس میں اغوا شدہ فوجی اہلکار کا والد اپنے بیٹے کے کپڑے کو ہاتھ میں لیا اپیل کر تے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔ جس میں وہ کہتا ہے ــ’’میں مجاہدین سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر میرا بیٹا ان کے پاس ہے تو مجھے اس کی اطلاع دی ہے اور اگر اس کو مار دیا گیا ہے تو اسکی نعش مجھے واپس فراہم کی جائے تاکہ میں اسکی تجہیز و تکفین ادا کر سکوں جو میرا حق ہے ‘‘۔ ویڈیو میں منظور احمد جنگجوئوں سے یہ بھی کہتا ہے ’’اگر میرا بیٹا آپ کے پاس نہیں ہے تو مجھے اس کی کوئی سگنل دی جائے تاکہ میں سمجھ سکوں کیونکہ میرے بیٹے کا قتل بھی ہو سکتا ہے ‘‘۔ ادھر فوجی اہلکار کے کپڑے باغات سے ملنے کے بعد فوج و فورسز نے تلاشی آپریشن میںمزید تیزی لائی ہے اور کئی علاقوںمیں تلاشی آپریشن عمل میںلایا گیا ۔ (سی این آئی )
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.