جموں کشمیر میں تیز رفتار 4جی انٹر نیٹ خدمات کی بحالی ؛عدالت عظمیٰ نے مرکزی و جموں کشمیر سرکار سے 11اگست تک جواب طلب کر لیا

سرینگر/07اگست: جموں کشمیر میں تیز رفتار 4جی انٹر نیٹ خدمات کی بحالی کو لیکر عدالت عظمیٰ نے مرکزی اور جموں کشمیر حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ سروس کی بحالی کیلئے اپنا موقف واضح کر دیں ۔ اس موقعہ پر سرکاری وکیل کی جانب سے جواب نامہ دائر کرنے کیلئے مزید وقت مانگ لیا جس کے بعد شنوائی 11اگست کو مقرر کی گئی ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق جموں کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصہ سے بند پڑی تیز رفتار موبائیل انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کیلئے جمعہ کو عدالت عظمیٰ میںپھر سماعت ہوئی ۔ اس موقعہ پر عدالت عظمیٰ نے مرکز اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے کہا کہ وہ جموں کشمیر میں4 جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے بارے میں قطعی مؤقف اپنائے۔ جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ کیا تیز رفتار انٹرنیٹ کچھ علاقوں میں بحال کی جا سکتی ہے ۔ اس موقعہ پر عدالت عظمیٰ میںمرکز نے جموں کشمیر میں نئے لیفٹنٹ گورنر کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میںمزید وقت مانگا ، جبکہ کہا کہ فور جی کی بحالی کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی ویہی رہے گی ۔ اس موقعہ پر سالیسیٹر جنرل ٹشر مہتا نے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کے لئے وقت مانگا۔ جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے کیس کی شنوائی 11اگست کو مقرر کر دی ۔ اس موقعہ پر ایڈوکیٹ ہزویفہ احمدی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ سرکار جواب داخل کرنے میںوقت لے رہی ہے اور بینچ نے اس معاملے میں پہلے ہی کافی وقت انتظار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اس معاملے میں سرکار کو جواب چاہئے ۔’ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی کی جانب سے اٹھائے گئے نقطے کا جواب دیتے ہوئے جسٹس این وی رمنا کا کہنا تھا کہ ‘ آپ بہت عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ اب صرف دو دن اور انتظار کیجئے جس کے بعد بینچ نے معاملے کی تاریخ آئندہ منگل کو مقرر کی۔’واضح رہے کہ گزشتہ برس پانچ اگست کو جموں کشمیر میں مواصلاتی نظام بند کر دیا گیا تھا کیونکہ انتظامیہ کو خدشات تھے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ پانچ مہینے بعد رواں برس جنوری میں عدالت عظمیٰ کے فرمان کے بعد مرکزی زیر انتظام خطے میں سست رفتار ٹو جی انٹرنیٹ بحال کیا گیا اور آج ایک برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود تیز رفتار انٹرنیٹ فور جی پر پابندی جاری ہے۔

Comments are closed.