کوروناوائرس کے علاج کیلئے Remdesivirمریضوں کی قوت خرید سے باہر: ڈاک
سرکار ایسے دوائی مہیا کرائیں جو آسانی کے ساتھ دستیاب ہو اور موثر بھی ہو
سرینگر/22جولائی: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ کوروناوائرس کے مریضوں کو موت کے خطرات کم کرنے والی دوائی Remdesivirغریب مریض خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیںاور اس طرح کی مہنگی ادویات مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے اسلئے سرکار کو چاہئے کہ ایسے مریضوںکیلئے سرکاری سطح پر اس دوائی کی فراہمی کو یقینی بنائیں یا اسکے متبادل میں کوئی سستی دوائی جو آسانی سے بازاروں میں دستیاب ہو۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ وادی میں کوروناوائرس سے زیادہ تر غریب طبقہ مریض ادویات مہنگی ہونے کے سبب موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائسر میں مبتلاء نازک مریضوں کو Remdesivirدوائی تفویض کی جاتی ہے جس کی قیمت 4ہزار سے 5,400روپے تک ہوتی ہے اور مریض کو یہ دوائی پانچ دنوں تک دی جاتی ہے اور ایک مریض کو 24ہزار سے 32,400روپے تک اس مدت میں اس دوائی پر خرچہ آتا ہے اور غریب مریض اس دوائی کو حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’سنٹرل ڈرگس سٹینڈارڈ کنٹرول آرگنائزیشن‘‘نے مذکورہ دوائی کو کووڈ مریضوں کیلئے تفویض کیا ہے اور یہ ایسے مریض کو دیا جاتا ہے جس کی حالت نازک ہو اور مرنے کی کگار پر پہنچ چکا ہو اسکے لئے یہ ضروری ہے ۔ تاہم یہ دوائی مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ بازاروں میں آسانی کے ساتھ دستیاب بھی نہیں ہوتی ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ کووڈ کے علاج کیلئے ایک موثر اور سستا دوا دستیاب رکھیں جو بازاروں میں بھی آسانی سے دستیاب ہو اور مہنگا بھی نہ ہو تاکہ غریب مریضوں کا بھی علاج و معالجہ ہوسکے اور موت سے بچ سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ جو مریض Remdesivirدوائی لیتے ہیں وہ ا ن مریضوں کے بنسبت بہت جلدی صحتیاب ہوتے ہیں جو اس دوائی کو نہیں لیتے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلئے سرکار اس دوائی کی قیمت کو بھی کم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں اور بازاروں و ہسپتالوں میں اس کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔
Comments are closed.