کوروناوائرس نے صدیوں پُرانی رسم کو چھوڑنے پرمجبور کیا ؛شادی بیاہ کی تقریبات میں ’’ترامی ‘‘بدلے پلیٹوں کا استعمال
سرینگر/22جولائی: وادی کشمیر میں شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کو ’’ترامی ‘‘میں کھانا فراہم کیا جاتا تھا اور یہ رسم یہاں صدیوں پُرانی ہے جس میں مہمانوں کو ترامی میں کھانا پیش کیا جاتا تھا اور چار چار افراد ایک ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے جس دوران مہمانوں کو مختلف پکوان فراہم کئے جاتے تھے ۔ لیکن کوروناوائرس کی مہاماری نے اس صدیوں پُرانی رسم کو چھوڑنے پر لوگوں کو مجبور کیا ہے اور اب مہمانوں کوفرداً فرداً پلیٹوں میں کھانا دیا جاتا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق دنیا بھر میں کوروناوائرس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو اس قدر متاثر کیا کہ انسانی تاریخ میں کووڈ19ہمیشہ دہرائی جائے گی کیوں کہ اس وبائی مرض نے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ کر لوگوں کو پریشان کردیا ۔ وائرس کی وجہ سے جہا ں زندگی کے تمام شعبہ جات متاثر ہوئے وہیں پر وادی میں بھی اس سے کئی تبدیلیاں رونماء ہویںجس میں سب سے بڑی تبدیلی جو دیکھی گئی وہ سماجی تبدیلی ہے ۔ یہاں کی مساجد بند ہوہیں ، مساجد کے میناروں سے گونجنے والی آواز دھیمی ہوئی ، مندروں میں بجلی والی گھنٹیاں خامو ش ہوئی اور گردواروں اور گرجاگروں میں سناٹا چھایا رہا ۔ جبکہ وادی میں صدیوں پُرانی روایات بھی تبدیل ہوگئی ۔ وادی میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں صدیوں سے مہمانوں کو ’’ترامیوں ‘‘میں کھنا فراہم کیا جاتا تھا جس میں چار افراد دسترخوان پر بیٹھ کر ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے اور طرح طرح کے پکوان انہیں آشپازوں کے ذریعے فراہم کئے جاتے تھے لیکن دنیا بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی کوروناوائرس نے اپنا جال بُری طرح سے پھیلا دیا جس نے صدیوں پُرانی روایات کو چھوڑنے پر لوگوں کو مجبور کردیا ہے ۔ اب شادی بیاہ کی تقریبات میں آئے ہوئے مہمانوں کو ’’ترامیوں‘‘کے بدلے پلیٹوں میں کھانا فراہم کیا جاتا ہے پہلے ایک ترامی میں چار افراد ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے لیکن اب فرداً فرداً انہیں پلیٹوں میں کھانا فراہم کیا جاتا ہے ۔ ترامی میںمختلف پکوانوں کے آخر میں گوشتابہ ایک ڈالا جاتا تھا جس کو چار حصے کرکے چار افراد آپس میں تقسیم کرتے تھے لیکن اب آشپا ز ایک ایک کرکے گوشتابہ پلیٹوں میں ڈالدیتے ہیں لیکن یہ گشتابہ بہت چھوٹا ہوتا ہے ۔
Comments are closed.