کسی بھی غیر مقامی شخص کو بغیر نگیٹو رپورٹ کے سرینگر میں داخل ہونے کی اجازت

انتظامیہ نے قواعد و ضوابط وضع کرکے اس کیلئے نوڈل افسران کو بھی تعینات کیا

سرینگر/22جولائی: شہر سرینگر کے حدود میں کسی بھی غیر کشمیری شخص کو بغیر نگیٹو سرٹفکیٹ کے داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اس کیلئے انتظامیہ نے سخت قواعد و ضوابط جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیلئے نوڈل افسران کو بھی تعینات کیا گیا ہے جو اس معاملے کی نگرانی کریں گے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں غیر یوٹی مزدوروں ، کاریگروں کی ایک بڑی تعداد داخل ہوچکی ہے اور ان کو بغیر ٹسٹ کے وادی آنے کی اجازت دی جارہی ہے جبکہ سرکار کا کہنا ہے کہ یہاں آنے والے تمام افراد کے نمونے حاصل کئے جارہے ہیں لیکن نمونے حاصل کئے جانے کے بعد بھی انہیں آزادی کے ساتھ وادی میں داخل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ کئی دنوں سے وادی میں پازیٹو کیسوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔ اور اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ کسی بھی غیر یوٹی مزدور ، بہاری، بنگالی اور پنجابی کاریگر و مزدور کو بغیر کووڈ نگیٹو سرٹفکیٹ کے سرینگر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں قواعد و ضوابط وضع کئے گئے ہیں جبکہ اس کیلئے نوڈل افسران کو بھی تعینات کیا گیا ہے جو اس معاملے کی نگرانی کریں گے ۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ چونکہ اینٹ بھٹوں میں کام کرنے والے وادی چھوڑ چکے تھے جن کو واپس لیا گیا ہے تاہم سرینگر میں کوئی بھی اینٹ بھٹ نہیں ہے اسلئے یہاں پر ایسے مزدوروں کو آنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم دیگر تعمیراتی کاموں کیلئے کاریگروں اور دیگر افراد کو تب ہی سرینگر کی حدود میں داخلہ مل سکتا ہے جب ان کے پاس نگیٹو ٹسٹ رپورٹ ہوگی ۔

Comments are closed.