بجلی کی دستیابی کے سلسلے میں محکمہ پی ڈی ڈی کے بلند بانگ دعوے بے بنیاد

گرمی کے ان ایام میں بھی شہرو گام میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری

سرینگر/ 21جولائی: بر قی رو کی دستیابی کے بارے میں پی ڈی ڈی محکمہ کے بلند بانگ دعوے جھوٹ کاپلندا ،پوری وادی میںجبری کٹوتی ،طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر، دن ڈھلنے کےسا تھ ہی سینکڑوںعلاقے گھپ اندھیرے میںڈھوب جاتے ہیں ،بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صارفین پریشا نیوںمیں مبتلا ۔ لوگوںنے کہا کہ ان گرمی کے ایام میں بھی محکمہ بجلی نے آنکھ مچولی جاری رکھی ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ماہ جولائی میں اگرچہ وادی میں بجلی کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تاہم رواں برس کی حالت مختلف ہے کہاں پر ماہ جولائی میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے جس پر لوگوںنے سخت برہمی کااظہار کیا ہے ۔ وادی کے سینکڑوں علاقوں سے لوگوںنے بر قی رو کی عدم دستیابی کی شکایت کرتے ہو ئے کہا کہ رواں برس میں پی ڈی ڈی محکمہ نے گرمی کے ان ایام میں بھی جبری بجلی کٹوتی سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کیوجہ سے لوگ پریشا نیوںمیں مبتلا ہوگئے ہیں ۔عوا می حلقوںکے مطابق بر قی رو کی کٹوتی کے بارے میں پی ڈی ڈی محکمہ نے کسی بھی طرح کا پروگرام مشتہر نہیں کیا ہے دن ڈھلنے کے سا تھ ہی 80 فیصد علاقے گھپ آندھیرے میں ڈھوب جاتے ہیں اور اور پی ڈی ڈی محکمہ کی جا نب سے حسب روایت 10سے16 گھنٹوں تک بر قی رو منقطع کی جاتی ہے وادی کے دس اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوںکے مطابق بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔لوگوںکے مطابق محکمہ کٹوتی کے بارے میں جوپروگرام منظر عام پر لاتا ہے اس پر عمل نہیںکی جاتی ہے بلکہ برقی رو چندگھنٹوں کیلئے بحال کرکے صارفین سے بجلی فیس وصول کرنے کی کاروا ئیاں عمل میںلا ئی جارہی ہے ۔

Comments are closed.